جمہوریت کو ٹھینگا

تازہ ترین

تازہ ترین

بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک بار پھر غزہ میں اسرائیلی حملوں کی بندش کی مطالباتی قرار داد منظور کرلی، تاہم اس بار بھی امریکا اور اسرائیل فلسطینی بچوں کے قتل و خون کا سلسلہ بند کرنے کی مخالفت میں شانہ بشانہ نظر آئے اور ایک بار پھر نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی سے آٹھ دیگر ممالک کے ہمراہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری روکنے کیلئے پیش کی گئی قرار داد کی مخالفت میں کھڑے ہوئے۔

  مگر چونکہ جنرل اسمبلی میں امریکا کو کوئی امتیازی استحقاق حاصل نہیں، اس لیے امریکا اپنے لے پالک اسرائیل کی جارحیت کو بریک لگانے کیلئے پیش کی گئی قرارداد کو منظوری سے نہیں روک سکا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کے وہ تمام ممالک نمائندگی رکھتے ہیں، جن کی خود مختاری، سرحدوں اور آزادی کو اقوام متحدہ نے سند تصویب دی ہوتی ہے، چنانچہ دنیا کے ایسے 193 ممالک جنرل اسمبلی کی رکنیت رکھتے ہیں۔

آج کی دنیا مجموعی طور پر جمہوری نظام کی برتری پر مشتمل ہے، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت آج کی دنیا کا نہ صرف سکہ رائج الوقت ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ عملاً جمہوریت کو معاصر دنیا کے کلمے کی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا خود ساختہ پولیس مین امریکا خود ساختہ ہی طور پر جمہوریت کا پاسدار اور نگہبان بھی بنا ہوا ہے اور اس حیثیت میں دنیا میں اپنی شرائط، اپنے فہم، اپنے مفاد اور اپنی تشریح کے مطابق جمہوریت کو نافذ کرنے کیلئے ہر طرح کی حربی، نفسیاتی، سیاسی اور سماجی سختی اور تشدد بروئے کار لانے سے بھی نہیں چوکتا۔

جمہوریت کا پرچم بلند کرکے دنیا پر چوکیدار کی نگاہ رکھے ہوئے امریکا نے اس مقصد کیلئے جدید تاریخ میں جتنی براہ راست عسکری اور بالوسطہ انٹیلی جنس جنگیں لڑی ہیں، ان کی لہو رنگ داستانیں شمالی افریقہ، لاطینی امریکا، مشرق بعید اور مشرق وسطی سے لیکر مشرقی یورپ تک پھیلی ہوئی ہیں اور اب تک اس کی یہ جنگیں کسی نہ کسی صورت میں دنیا کے مختلف جغرافیائی خطوں میں جاری ہیں۔

بات جمہوریت کی ہے، جمہوریت کے نفاذ اور جمہوری اقدار کی نگہداشت کی اس جنگ میں امریکا کی آدرشوں کی تکمیل کیلئے اقوام متحدہ حسب ضرورت امریکا کو اپنی حمایت اور سہولت کاری کی چھتری فراہم کرنے پر مجبور ہے، چنانچہ اس عنوان سے امریکا کو جہاں بھی ظلم و ستم کی چکی نصب کرنی، عند الطلب اقوام متحدہ فوری طور پر اپنی مہر تصویب پیش کر دیتا ہے۔

   بات طویل ہو رہی ہے۔ امریکا اور اقوام متحدہ آج کی دنیا میں جمہوریت کے دو بڑے نگہبان ہیں اور جمہوریت کی پاسبانی کیلئے ایک ساتھ ہاتھوں میں کیرٹ اینڈ اسٹک لیے ہمہ وقت چوکنے نظر آتے ہیں، مگر دنیا پر تھوپنے کیلئے جس جمہوریت کو یہ ضروری سمجھتے ہیں، اسی کے آئینے میں ان کے کردار کو دیکھا جائے تو اس کا جمہوریت سے دور پار کا بھی کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔

ماضی کی کتاب جمہوریت کے پس منظر میں اقوام متحدہ اور امریکا ہر دو کے دوغلے کردار کی داستانوں سے بھری پڑی ہے، اس کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہم اپنے آج کے جیتے جاگتے عہد میں دیکھتے ہیں تو فلسطین چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ یہ جھوٹے، دوغلے، منافق اور بے شرم ہیں، ان کا کسی جمہوریت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا سب سے موثر اور طاقتور فورم ہے، گویا جمہوری نظام نے آج دنیا کو اقوام متحدہ کی صورت میں جو سب سے بڑا ادارہ دیا ہے، سلامتی کونسل اس کا بھی سب سے طاقتور حصہ ہے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ سلامتی کونسل جمہوریت کا سب سے بڑا نمونہ ہوتی، اس کے فیصلوں، کردار اور اعلانات میں انصاف، مساوات اور انسانیت کی سلامتی کی جھلک دیکھ کر دنیا کو معلوم ہوتا کہ جمہوریت واقعی ایک انسان پرور نظام ہے، مگر ہو اس کے برعکس رہا ہے۔ 

جمہوریت میں اکثریت کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اکثریت جو رائے دیتی ہے، وہی فیصلہ قرار پاتی ہے، یہی کچھ اقوام متحدہ اور امریکا کی جمہوریت کی تشریح سے بھی مترشح ہے، مگر کیا ایسا ہو رہا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اقوام متحدہ کا وجود انسانیت کو جنگوں سے نجات دلانے کیلئے عمل میں آیا تھا، اقوام متحدہ کی پہلی ناکامی یہی ہے کہ اسرائیل اس کے ہوتے ہوئے دو ماہ سے مسلسل غزہ پر جنگ تھوپے ہوئے ہے اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی ہے۔

اقوام متحدہ کی دوسری ناکامی جمہوریت کی پاسداری کے حوالے سے ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کی غالب اور واضح اکثریت جنگ بندی کیلئے چیخ رہی ہے۔ قرار دادوں پر قرار دادیں منظور کی جا رہی ہیں۔ جنرل اسمبلی میں اب تک جتنی بھی قرار دادیں آئی ہیں، سب واضح اکثریت سے کامیاب ہوئی ہیں، مگر دنیا کا یہ فیصلہ ایک اور قرار داد کی صورت میں اقوام متحدہ کے سب سے پاور فل ادارے سلامتی کونسل میں پہنچتا ہے تو اس کونسل کے پانچ ویٹو پاورز میں سے کوئی بھی ایک ہاتھ کھڑا کرکے پوری دنیا کو ٹھینگا دکھا دیتا ہے۔

جنرل اسمبلی نے آج جنگ بندی کی حمایت میں ایک اور قرار داد منظور کی ہے، مگر یہی بات سلامتی کونسل میں ایک بار پھر پہنچے گی تو ایک بار پھر امریکا اپنے لے پالک اسرائیل کے ظلم و جارحیت کو سند جواز بخشتے ہوئے پوری دنیا کو تنہا پسپا کر دے گا۔ یہ ویٹو کا ووٹ صرف جنگ بندی کی ایک قرارداد کو ناکام نہیں بنائے گا، یہ اس جمہوریت کو ہی ٹھینگا دکھا دے گا، جس کا اقوام متحدہ علمبردار ہے اور جو اس عالمی ادارے کی بنیاد ہے۔

Related Posts