ڈی آئی خان دہشت گرد حملہ اور پاک افغان تعلقات

تازہ ترین

تازہ ترین

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں سیکورٹی فورسز پر گزشتہ دن ہونے والا حملہ دہشت گردی کے مسلسل خطرے کا واضح انتباہ ہے۔ پاکستان افغانستان سے کہتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گردوں کو قابو کرے لیکن افغانستان کی عبوری حکومت زبانی یقین دہانیوں کے علاوہ کوئی مخلصانہ قدم نہیں اٹھا رہی۔

کل کے حملے میں پاکستان کے پچیس بہادر سپاہیوں کی جانیں گئیں، یہ ایک ایسی قربانی ہے، جس نے قوم کو ان شہیدوں کا مقروض کر دیا ہے۔

بدقسمتی سے افغان طالبان کی عبوری حکومت نے ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین کے اندر محفوظ پناہ گاہیں ملنے کے بارے میں پاکستان کے خدشات پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔

سیکورٹی ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ ہفتوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ غیر قانونی افغان مہاجرین کے تئیں عدم برداشت کی نئی پاکستانی پالیسی کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغانیوں کی مثالی میزبانی کی ہے، لیکن قومی سلامتی بہرحال ہر چیز سے مقدم ہے۔

ڈی آئی خان میں ہوئے واقعے کی ذمے داری ایک گمنام عسکریت پسند گروپ کی جانب سے قبول کی گئی ہے، جو درحقیقت فورسز کی توجہ بٹانے کا حربہ ہے، ایسی تمام کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد ہی عموماً ملوث ہوتے ہیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آرمی چیف جنرل عاصم منیر دورے پر امریکہ میں ہیں اور امکان ہے کہ ان کے اس دورے کے ایجنڈے میں انسداد دہشت گردی بھی شامل ہوگا۔ ملک میں جس طرح بے امنی کی نئی لہر اٹھی ہے، اس میں یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

تاہم امید ہے کہ دہشت گردی کی یہ نئی لہر اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کر پائے گی۔ سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے درابن حملے کی وسیع پیمانے پر مذمت جانوں کے ضیاع پر دکھ اور تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومت کا ردعمل بشمول سخت حفاظتی اقدامات، ان خطرات کا مقابلہ کرنے اور متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں دونوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہوگا۔

حکومت کی جانب سے غیر قانونی مقیم افغانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کے فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، جس میں دہشت گردی کی حالیہ لہر جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، جس کی روک تھام کیلئے نہایت ضروری ہے ورنہ حالات مزید ابتری کی طرف جائیں گے جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔

Related Posts