اس وقت ملک میں سیاسی درجہ حرارت اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکا ہے ،11 جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور ملک میں حقیقی جمہوریت (بقول اپوزیشن) کا بول بالا کرنے کیلئے احتجاجی تحریک جاری ہے جس کا باقاعدہ طور پر آغاز مسلم لیگ ن کی میزبانی میں 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں جلسے کے انعقاد سے ہوا جبکہ اس سلسلے کا دوسرا جلسہ کراچی میں 18 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی میزبانی میں منعقد ہوا او ر 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں تیسرا اجتماع منعقد کیا گیا۔
گوجرانوالہ اورکوئٹہ کے جلسے میں ن لیگ کے قائد نواز شریف کے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب نے تلاطم خیز سیاسی ماحول کی گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کردیا کیونکہ انہوں نے اپنے خطاب میں عمران خان اور ان کی حکومت کے بجائے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید پر نام لیکر سیاسی و قانونی معاملات میں دخل اندازی اور خود کو نکالے جانے کا الزام لگاتے ہوئے سپہ سالار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے باعث عوام اور فوج کے ادارے میں تشویش پائی جاتی ہے ۔
نوازشریف کی اداروں کیخلاف تقاریرپربین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شہ سرخیاں لگ رہی ہیں جبکہ دشمن ملک بھارت کے ذرائع ابلاغ خوشی کے شادیانے بجارہے ہیں اور یوں ایک ایسا شخص جو پاکستان کا تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکا ہو وہ بین الاقوامی سطح پر ملک اور پاک فوج کیلئے نہ صرف ہزیمت کا باعث بن رہا ہے بلکہ دشمن قوتوں اور ان کے پاکستان کے خلاف بیانیے کو تقویت پہنچارہا ہے ۔
دشمن بھارت ہمارے خلاف نہ صرف سرحدوں پر جنگی تیاریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور مسلسل سرحد پر چھیڑ چھاڑ کررہا ہے بلکہ اندرونی طور پر دہشت گردی کے ذریعے پاک فوج کو مسلسل نشانہ بنارہا ہے حالیہ دنوں صرف دو روز میں شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 واقعات میں پاک فوج کے 22 جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں اور پاک فوج گذشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افسروں سمیت ہزاروں جوانوں کی قربانی دے چکی ہے ایسی فوج کو اپنے اقتدار اور سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے مطعون کرنا غداری ہے یا حب الوطنی یہ قارئین خود فیصلہ کرسکتے ہیں ۔
اس صورتحال کے تناظر میں پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل نے ایک سوال کے جواب میں نجی ٹی وی چینل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاں فوج کا قصور ہے کہ اس نے ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور دیگر لیڈروں کی پشت پناہی اور سیاسی طور پر آبیاری کی جنرل صاحب جس تاریخی پس منظر میں بات کررہے تھے اس کی مختصراً تفصیلات بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ آج کے جمہوریت کے علمبرداروں اور ان کے وارث کتنے جمہوریت پسند اور آمریت کے خلاف رہے ہیں اور کون کون سلیکٹ ہوکر اقتدار میں آتا رہا ہے۔
7 اکتوبر 1958 کو اسکندر مرزا نے ملک میں مارشل لاء لگایا تو بلاول بھٹو کے نانا ذوالفقار علی بھٹو مارشل لائی کابینہ میں شامل تھے 20 دن بعد چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو جلا وطن کردیا تب بھی بھٹو ان کے ساتھ تھے آج سیاست کا استعارہ اور جمہوریت کی علامت اور بابائے جمہوریت سمجھے جانیوالے ذوالفقاعلی بھٹو جنرل ایوب خان سے بہت محبت کرتے تھے اور انہیں ڈیڈی کہتے تھے اور یہ محبت یکطرفہ نہ تھی ۔
ایوب خان بھی بھٹو کی ذہانت اور انکی شخصیت کو بہت پسند کرتے تھے بھٹو نے ایوب خان کو ایشیاء کا ڈیگال اور صلاح الدین ایوبی ثانی قرار دیا تھا ، جنرل ایوب خان نے 1962ء میں کنونشن مسلم لیگ کے نام سے اپنی سیاسی پارٹی بنائی تو اس کے صدر ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو مرکزی سیکریٹری جنرل بنے اور 1965ء میں مادر ملت فاطمہ جناح کے مقابلے میں بھٹو ایوب خان کے کوورنگ امیدوار بھی تھے۔
اس کے علاوہ محترم بھٹو کو سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور 1973ء میں وزیر اعظم پاکستان کا عہدہ سنبھالا 5 جولائی 1977ء کو ملک میں ایک مرتبہ پھر آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کرکے پاکستان کا نظم و نسق سنبھال لیا اور پھر 1983میں ایک غیر معروف کیا نامعلوم شخص اچانک پنجاب میں وزیر خزانہ کے طور پر وارد ہوئے وہ تھے میاں محمد نواز شریف جو کہ 1985 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر متمکن ہوئے اور 1992 میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم بن کر سیاسی افق پر چھا گئے۔
نوازشریف یہ کامیابیاں سلیکشن اور ایک آمر (ضیاء الحق شہید) کی مرہون منت تھیں یا انکی سیاسی جدوجہد یہ واقفان حال جانتے ہی ہیں۔ جیسا کے ایک فارسی مثل ہے ’’ من خوب می شناسم پیران پار سارا‘‘ (یعنی پرہیزگار پیروں کو ہم خوب جانتے ہیں) اور میاں محمد نواز شریف اب تو خیر انقلابی ہوگئے ہیں اور بقول ان کے اب عزت سے جینے کا عزم کرلیا ہے اور اپنی سیاسی وراثت اپنی بیٹی مریم نواز کو سونپ دی ہے جو کہ اس وقت سیاست میں فعال و متحرک ہیں دوسری جانب عمران خان ہیں جس نے 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنا کر سیاست کے سمندر میں غوطہ زن ہوئے اور 22 سال کی جدوجہد کے بعد 2018 کے عام انتخابات میں کامیاب ہوکر وزارت عظمیٰ پر متمکن ہیں اور منتخب ہونے کے باوجود اپوزیشن کی نظر میں سلیکٹڈ ہیں جبکہ ان ہی انتخابات کے نتیجے میں جنہیں ساری اپوزیشن دھاندلی زدہ کہتی ہے بلاول بھٹو زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سندھ میں حکومت کررہی ہے اور ایک الیکٹڈ حکومت کہلاتی ہے ۔
اسی طرح دسمبر 2007 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد محترمہ کی وصیت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے پاس آگئی اور ان کے والد محترم آصف علی زرداری نے شریک چیئرمین کی حیثیت سے بلاول بھٹو کی بلوغت تک قیادت سنبھالی اور اب ما شاء اللہ بلاول بھٹو پاکستان کی سیاست چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کی حیثیت سے قیادت کررہے ہیں اور ملک کی وزارت عظمیٰ کے امیدوار بھی ہیں جبکہ انہوں نے اپنی بہن آصفہ بھٹو زرداری کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کرکے جمہوریت کے تمام تقاضے پورے کئے ہیں اور اب وہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حقیقی جمہوریت کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔
عوام کی تمام مشکلات کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو ٹھہراکر اسے گھر بھیج کر اقتدار میں آکر پاکستان پیپلز پارٹی کے نعرے کے مطابق روٹی کپڑا اور مکان عوام کو دینا چاہتے ہیں کیونکہ عمران خان کی حکومت نے تو پورے ڈھائی سال میں کچھ بھی نہیں کیا جبکہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو صرف 35 سال کا اقتدار ملا جس میں عوام بہت خوشحال تھے بس صرف روٹی کپڑا اور مکان سے محروم رہے جس کیلئے موجودہ حکومت کا خاتمہ اور تاریخ سے ثابت جمہوریت پسندوں کو ہمیشہ اقتدار میں رکھنا ضروری ہے اس کیلئے اگر پاک فوج یا کوئی اور ادارہ مدد گار بنے تو جمہوروں کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
مگر موجودہ حکومت کی آئین کے دائرے میں مدد کے عزم کا اعادہ کرنا من چاہی جمہوریت کیخلاف ہے اور ہوگا کہتے ہیں بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے مگر ہمارے ملک میں جمہوریت مخصوص خاندانوں کی حکومت کا نام ٹہری ہے یوں جمہوریت چند خاندانوں میں گم ہے اور اسی حقیقی جمہوریت کی تلاش میں سارے عاشقان اقتدار اکھٹے ہوچکے ہیں اور کسی بھی قیمت پر من چاہی جمہوریت کے ذریعے حصول اقتدار کیلئے سرگرداں ہیں کیونکہ اقتدار کی ایسی لت لگ چکی ہے کہ اس کے بغیر گذارہ ہو نہیں سکتا۔