کراچی: نجی ٹی وی چینل کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کو گرفتار کیا گیا ہے جس کی سابق وزیرِ انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے مذمت کی اور اسے صحافتی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی (اے آر وائی) کے ہیڈ آف نیوز کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ عماد یوسف کے خلاف کراچی کے میمن گوٹھ، ملیر تھانے میں مختلف دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔
شہباز گِل 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
ایف آئی آر کے متن کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا ایک کلپ جو آج سے 2 روز قبل نجی ٹی وی چینل پر نشر کیا گیا جس میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز جوابات دئیے۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ کلپ میں کی گئی گفتگو سے پاک فوج کے خلاف منافرت اور بغاوت پیدا کی جارہی ہے۔ سرکاری افسران کو بھی جائز حکومتی احکامات کی بجاآوری سے باز رکھنے کیلئے دھمکایا جارہا ہے۔
سابق وزیرِ انسانی حقوق اور پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ میڈیا کی آزادی اور انسانی حقوق کے خود ساختہ محافظوں کی خاموشی بہرا کردینے والی ہے۔ مغربی ڈونرز کا حکم مانا جارہا ہے۔ کیا یہ شہری آزادی کے خلاف نہیں؟
ڈاکٹر شیریں مزاری نے نجی ٹی وی چینل کے نیوز ہیڈ کی گرفتاری پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے سازش کے تحت حکومت کی تبدیلی کے بعد اب شہری آزاد نہیں رہے۔یہ صاف ظاہر ہے۔
The silence of the self proclaimed defenders of media freedom & human rights is deafening. Western donors dictate! Its not abt a decline in civil liberties now bec after US regime change conspiracy there are no civil liberties anymore as is clearly evident. Stay safe @arsched https://t.co/nMRVmdbaF1
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 10, 2022
دوسری جانب ٹی وی میزبان غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ عماد یوسف کوئی صحافی نہیں کیونکہ ان کا صحافتی پس منظر صفر ہے تاہم وہ ایک پی ٹی آئی کارکن تھے جبکہ ان کا نجی ٹی وی چینل میڈیا آرگنائزیشن کے بھیس میں تھا۔
غریدہ فاروقی نے کہا کہ عماد یوسف کی گرفتاری کو میڈیا کی آزادی کا معاملہ نہ بنائیں۔ یہ صحافتی آزادی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملزم نے آئین اور قانون کی واضح خلاف ورزیاں کیں۔ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔
Ammad Yusuf is not a journalist, zero journalistic background; but a PTI worker, working in ARY in disguise of a media organisation. Do not make it a ‘media freedom’ issue when it is not. Clear violations of Constitution & law committed by him. Law must take its course. FIR ???? pic.twitter.com/ZhE8azdOdI
— Gharidah Farooqi (T.I.) (@GFarooqi) August 10, 2022
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








