انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے آج کراچی میں محاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے چیئرمین آفاق احمد کو ڈمپر کو آگ لگانے اور عوام کو تشدد پر اکسانے کے مقدمے میں بری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رواں برس 12 فروری کو ایم کیو ایم (حقیقی) کے سربراہ آفاق احمد کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انہوں نے کراچی میں جان لیوا ٹریفک حادثات میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پریس کانفرنس کی تھی۔
اس سے قبل، آفاق احمد نے ڈمپر سمیت بھاری ٹریفک کے باعث ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں میں تشویشناک اضافے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف 40 دنوں میں 92 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
انہوں نے سندھ حکومت کے اُس حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا جس کے تحت دن کے وقت بھاری گاڑیوں کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔آفاق احمد نے اس سے قبل مہاجر نوجوانوں کو کراچی میں بھاری گاڑیوں کا داخلہ روکنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
واضح رہے کہ آفاق احمد اور متحدہ قومی موومنٹ (حقیقی)، جس پر بسا اوقات پر الطاف حسین کی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم (لندن) ہونے کا شبہ کیاجاتا ہے، شہر کے متعدد علاقوں میں آج بھی عوامی حمایت کے حصول کا دعویٰ کرتے ہوئے مختلف سیاسی سرگرمیوں میں بھی مصروف نظر آتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








