کراچی کی بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کیس انسدادِ دہشت گردی عدالت میں زیرِ سماعت ہے جس کا فیصلہ آج افسوسناک قومی سانحے کے 8 سال بعد متوقع ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سابق وزیر رؤف صدیقی سمیت دیگر اہم افراد بلدیہ فیکٹری کیس میں ملزم ہیں۔ بلدیہ ٹاؤن میں 8 سال قبل 11 ستمبر کو 260 افراد کو کثیر منزلہ گارمنٹ فیکٹری میں زندہ جلا دیا گیا جس سے یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے المناک قومی سانحہ بن گیا۔
بلدیہ فیکٹری کیس کے دیگر ملزمان میں ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج عبدالرحمان عرف بھولا، زبیر چریا، ڈاکٹر عبدالستار، عمر حسن قادری اور دیگر شامل ہیں۔ ملزمان میں کمپنی کے 4 گیٹ کیپرز پر بھی متحدہ قومی موومنٹ کی تنظیمی کمیٹی کے سابق انچارج حماد صدیقی کے احکامات پر آتشزدگی میں معاونت کا الزام ہے۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل سانحہ بلدیہ کیس فیکٹری مالک کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی عدالت کو ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرائے گئے بیان کی کاپی منظر عام پرآگئی ۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس کی جے آئی ٹی میں 2 ماہ قبل بتایا گیا کہ علی انٹرپرائزکے مالک نے جج کے سامنے بھی سانحہ بلدیہ سے متعلق مزید انکشافات کیے۔
مزید پڑھیں: بلدیہ فیکٹری کے مالک کے بیان میں سنسنی خیز انکشافات
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








