ایرانی حملہ اور اسرائیل کا مستقبل

تازہ ترین

تازہ ترین

اسرائیل پر 13 اپریل کے ایرانی حملے کی اندرونی تفصیلات دھیرے دھیرے سامنے آرہی ہیں۔ کچھ بہت ہی اہم باتیں سامنے آچکیں۔ جبکہ بہت سے سوالات ابھی اپنے جوابات کے منتظر ہیں۔ سامنے آنے والی تفصیلات میں دو باتیں نسبتاً زیادہ اہم ہیں۔

پہلی یہ کہ اس بات کی ہر طرف سے تصدیق ہوچکی کہ میچ فکسڈ تھا۔ ایران اس حملے کے سلسلے میں امریکہ سے رابطے میں تھا۔ ان معلومات میں نیا اضافہ البتہ یہ ہوا ہے کہ یہ معلوم ہوگیا ہے کہ امریکی رابطہ کار کون تھا؟ انکشاف کے مطابق یہ رابطہ کار سی آئی اے کے ڈائریکٹر ویلیم برنز بذات خود تھے۔ اور ایران نے ان رابطوں کی تردید بھی نہیں کی۔

اس سے زیادہ اہم انکشاف یہ ہوا ہے کہ ایرانی حملے میں صرف شاہد ڈرونز استعمال نہیں ہوئے بلکہ ایران کی جانب سے کروز اور بیلسٹک میزائل بھی اہداف پر داغے گئے تھے۔ اسرائیل پر میزائل حملے کی دو حوالوں سے اہمیت ہے۔ پہلا یہ کہ اسرائیل کا ائیر ڈیفنس سسٹم بہت مضبوط ہے۔ اس میں آئرن ڈوم سسٹم ہے جو راکٹوں اور ڈرونز کے خلاف مؤثر سمجھا جاتا ہے جبکہ طیاروں اور میزائلوں کے خلاف اس کے پاس تین طرح کے اینٹی ایئر میزائل ہیں۔ ان میزائلوں میں ڈیوڈ سلینگ، ایرو 2 اور ایرو 3 میزائل شامل ہیں۔ پھر دفاعی نقطہ نگاہ سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اسرائیل کو کسی وسیع و عرض جغرافیائی حدود کی حفاظت کا چیلنج درپیش نہیں۔ یوں گویا وہ اپنے چھوٹے سے جغرافیے کے تقریبا ہر انچ کو دفاعی حصار میں رکھ سکتا ہے۔

ایک مضبوط ایئرڈیفنس سسٹم کے ہوتے ہوئے اسرائیل پر حملہ کرنے والے ایران کو دس مرتبہ سوچنے کا امتحان درپیش رہا ہوگا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ اگر میزائل حملہ مکمل طور پر ناکام ہوجاتا تو یہ نہ صرف اسرائیل کی برتری ہوتی بلکہ اسرائیل مزید شیر بھی ہوجاتا۔ اور ایران کو اس کا عسکری و سیاسی دونوں حوالوں سے نقصان ہوتا۔ جبکہ اسرائیل کا حوصلہ یہ سوچ کر مزید بلند ہوجاتا کہ اچھا تو طے ہوگیا کہ ایرانی میزائل ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

ایسے میں جب اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ایرانی حملے میں کروز اور بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے تو ہم چونکے۔ اور چونکنے کی وجوہات وہی تھیں جو پیچھے ذکر ہوئیں۔ مگر یہ جان کر اطمینان ہوا کہ ایران کے 9 بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کے تین ملٹری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ ان اہداف میں دو ایئربیسز اور گولان ہائٹس میں واقع بڑا انٹیلی جنس مرکز شامل ہیں۔ان تین اہداف میں بالخصوص جنوب میں واقع نیواتیم ایئربیس بہت ہی اہم ہے۔یہ ایئربیس دنیا کا سب سے محفوظ ایئربیس سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو فراہم کئے گئے جدید ترین ایف 35 طیاروں کا ہوم بیس ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ اسرائیلی ملٹری کا سب سے بڑا لاجسٹک حب بھی ہے۔ غزہ کی حالیہ جنگ میں اسرائیل کو امریکہ سے ملنے والی امداد اسی بیس پر اترتی رہی ہے۔سو اس کی حفاظت کا انتظام بھی اس طرح کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے عسکری ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس ایئربیس سے زیادہ سیکیورٹی دنیا کے کسی بھی ایئربیس کو میسر نہیں۔

سامنے آنے والی مصدقہ ویڈیوز اور سیٹلائٹ پکچرز میں نواتیم ایئربیس کو ایرانی میزائلوں کے ہٹ کرنے کے مناظر و نتائج دیکھے جاسکتے ہیں۔خود اسرائیلی اعتراف کے مطابق نواتیم ایئربیس پر ایک سی 130 طیارہ، رن وے اور سٹور تباہ ہوا ہے۔

یہ تو ہم پیچھے عرض کر چکے کہ اگر یہ میزائل حملہ ناکام ہوتا تو اس کے نتائج کیا ہوتے۔ آئیے اب اس پہلو سے جائزہ لیتے ہیں کہ ان کامیاب حملوں کے اب اسرائیلی مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک چھوٹی سی مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کیجئے دو  فریقوں میں دشمنی ہے۔ ان میں سے ایک وقتاً فوقتاً آتا ہے اور دوسرے کے گھر کی دیوار یا کمزور سا گیٹ پھلانگ کر اہل خانہ پر حملہ کرکے نقصان پہنچا جاتا ہے۔ مگر یہ دوسرا فریق جواباً ایسا نہیں کرپاتا، اور وجوہات دو ہیں۔ ایک تو اس کی اپنی دیواریں نیچی ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ حملہ آور کی دیواریں بھی بہت اونچی ہیں، گیٹ بہت مضبوط ہے اور ان اونچی دیواروں کے پیچھے ٹرینڈ کتے بھی موجود ہیں۔ سو یہ طے ہے کہ جب تک صورتحال اسی طرح رہتی ہے دوسرا فریق مار کھاتا رہے گا۔ اسے ملٹری اصطلاح میں ڈیٹرنس بالادستی کہتے ہیں۔ لیکن جس دن دوسرے فریق نے پہلے فریق کی اونچی دیواروں اور ان دیواروں کے پیچھے موجود کتوں کا حل ڈھونڈ لیا، صورتحال یکدم بدل جائے گی۔ اور پہلی بار پہلا فریق ایک بڑے خوف سے دوچار ہوجائے گا۔اسے ڈیٹرنس شفٹ کہتے ہیں۔

مسلم ممالک اور اسرائیل کے تنازعے میں ڈیٹرنس کی بالادستی ہمیشہ اسرائیل کو حاصل رہی ہے۔ اور اس کی یہ ساری ڈیٹرنس کیپبلٹی امریکہ کی مدد سے رہی ہے۔ اسی نے اسرائیل کو اونچی دیواریں بنا کردیں  اور وہ وسائل فراہم کئے جن کی مدد سے اس نے خطے کے ہر ملک کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امریکہ پچھلے تیس سال سے مار کھانے والوں سے یہ بھی کہتا آرہا ہے کہ دیکھئے مسئلے کا حل یہی ہے کہ غنڈے سے صلح کرلو ورنہ اس کا تم بگاڑ تو کچھ نہیں سکتے، ہاں مار ہی کھاتے رہو گے۔

7 اکتوبر کے حملے میں حماس نے اسرائیل کی اونچی دیواروں کے پیچھے موجود کتوں کا علاج کیا تو یہ کتے اپنی حدود سے باہر آکر غزہ کی گلیوں میں پھیل گئے۔ مگر اللہ سبحانہ و تعالی کا فضل اور اہل غزہ کی دلیری کہ یہ کتے غزہ کی گلیوں میں بھی عبرت کی مثال بن گئے۔خود ہماری ہی صفوں میں موجود احمقوں نے پروپیگنڈے کرکر کے ایک زمانے سے سب کو یہ باور کرا رکھا ہے کہ یہودی دماغ بہت غیر معمولی دماغ ہے۔ مگر آپ اس یہودی دماغ کی اوقات دیکھئے کہ غزہ والی شرمندگی مٹانے کو اسے یہ آئیڈیا سوجھا کہ کیوں نہ ایران کو اس جنگ میں کھینچ کر جنگ غزہ سے ایران منتقل کردی جائے؟ اس خیال کو عملی جامہ بلکہ پاجامہ پہنانے کے لئے اسرائیل نے 4 اپریل کو دمشق میں واقع ایرانی قونصلیٹ کو میزائل حملے کا نشانہ بنا ڈالا۔ نتیجہ اسرائیل پر اس ایرانی میزائل حملے کی صورت نکلا جس میں 9 میزائل اسرائیل میں اپنے اہداف پر جا گرے۔ اور راتوں رات ڈیٹرنس شفٹ ہوگیا۔

کیونکہ یہ طے ہوگیا کہ اسرائیل کی اونچی دیواریں (ایئرڈیفنس سسٹم) اب کسی کام کی نہیں رہیں۔ پورا اسرائیل اب ایک انتہائی غیر محفوظ مقام کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اگر دنیا کا سب سے سیکیور ایئربیس بھی میزائل حملوں سے محفوظ نہیں تو پھر کیا محفوظ ہے؟سو خود یہودی دماغ نے ہی اپنا یہ بھرم بھی توڑ ڈالا کہ اس اونچی دیواریں اس کی سلامتی کی ضامن ہیں۔ یہ صورتحال صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ اس امریکہ کے لئے بھی دل دہلا دینے والی ہے جس نے ان اونچی دیواروں کی تعمیر پر 75 برس لگائے ہیں۔ڈیٹرنس کی جو بالادستی اسرائیل کو حاصل تھی وہ ایک ہی فجر میں ہوا میں تحلیل ہوگئی۔ اگر آپ نے نوٹ کیا ہو تو ایرانی حملے کے بعد سے اسرائیلی لیڈروں کی زبانوں پر سناٹے کا راج ہے۔

اب اسرائیل وہ پہلے والا اسرائیل نہیں رہے گا۔ اب اپنے ہر عمل کا ردعمل اسے ایک بڑے خوف سے دوچار رکھے گا۔ کیونکہ مجموعی طور پر صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ اب وہ حماس سے محفوظ ہے اور نہ ہی پڑوسی ممالک سے۔ اس کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کا جغرافیہ بہت محدود ہے۔ اور اس محدود جغرافیے کا کوئی انچ ایسا نہیں جس سے متعلق اسے یہ اطمیان ہو کہ کم از کم یہ تو محفوظ ہے۔ اور صورتحال کی سنگینی دیکھئے کہ جس امریکہ نے اسے اب تک پالا پوسا ہے، خود وہی اب بوڑھا ہوکر زوال سے دوچار ہے۔ یہ بڈھا اپنے لئے سلاجیت ڈھونڈے کہ اسرائیل کی فکر کرے؟

Related Posts