عورت مارچ تنازعہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ہمارے معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد اور غیر معمولی بد سلوکی کی جڑیں بہت گہری ہوچکی ہیں۔ جس کا خواتین نے عوامی مقامات پر ریلی نکال کر اظہار کیا اور اپنے حقوق کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئیں اور کہا کہ انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے، وہ نظام جہاں مردوں کی اجارہ داری ہوتی ہے اس صورتحال سے پریشان ہوگیا اور جواب دینے کا فیصلہ کیا، اس بار مذہبی امور کے وزیر نورالحق قادری سامنے آئے اور کہا کہ آئے دن تنازعہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔

نورالحق قادری نے وزیر اعظم کو ایک خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر عورت مارچ پر پابندی عائد کی جائے اور اس کے بجائے حجاب کے حق میں مارچ – ‘حجاب مارچ’ – کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے۔ جبکہ ہندوستان کی خواتین نے ہندوستان کی مصیبت زدہ خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور دنیا میں ہر جگہ تمام خواتین نے اس حق کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے کہ یہ خواتین کی مرضی ہے کہ وہ کیا پہنیں کیا نہ پہنیں۔ عورت مارچ پر پابندی لگانے میں کوئی منطق نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر اپنے خط میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے خواتین کے عالمی دن کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن پھر وہ بینرز اور نعروں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں جو اکثر عورت مارچ میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چونکا دینے والی بات ہے کہ ایک حکومتی وزیر اس انداز میں عورت مارچ کے خلاف سامنے آئے اور اپنے دعوؤں کی تائید کے لیے بغیر کسی ثبوت کے اس کی مذمت کرے۔

یہاں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے، گھریلو تشدد وغیرہ سے بچانے کے لیے کافی قوانین موجود ہیں، لیکن رجعت پسند سماجی رویے اور بے حس قانونی نظام ان پر عمل درآمد کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ تازہ ترین صنفی مساوات انڈیکس کے مطابق، موجودہ شرح سے پاکستان میں صنفی فرق کو ختم کرنے میں 136 سال لگیں گے۔

وزیر مذہبی امور کی جانب سے ان وجوہات کو غیر اسلامی قرار دینے کی کوشش ایک توہین ہے۔ یہ پچھلے سالوں میں عورت مارچ پر ہونے والے حملوں کی بھی یاد دہانی ہے، جہاں مردوں کے ایک گروپ نے خواتین مظاہرین کو پتھروں سے مارا، اور بعد میں مارچ کو بدنام کرنے کے لیے فوٹو شاپ والے جارحانہ پوسٹر آن لائن نشر کردیئے۔

دریں اثنا، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اسلام آباد کے صدر نے مارچ میں خلل ڈالنے کے لیے کھلے عام جسمانی تشدد کی دھمکی دی۔ واضح ہے کہ کچھ عناصر بدسلوکی کرنے سے باز نہیں آئیں گے، انہیں خواتین کی یکجہتی کا اتنا خوف کیوں ہے؟ حکومت ان تمام لوگوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے جو 8 مارچ کو احتجاج کے اپنے جمہوری حق میں مصروف ہیں۔

Related Posts