تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں ایندھن، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں حالیہ زبردست اضافے کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری نے ایک بار پھر مخلوط حکومت کو کفایت شعاری کی مہم شروع کرنے پر مجبور کر دیا ہے جیسا کہ پی ٹی آئی کی زیر قیادت وفاقی حکومت نے 2018 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کیا تھا۔

اپنی ہی اشرافیہ کے ہاتھوں ہائی جیک ہو کر، یہ اخلاقی اور مالی دیوالیہ پن کے دہانے پر ہے۔ عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام تر تحفظات سے عاری، پاکستان کا سیاسی تنازعہ بنیادی طور پر طاقتور سیاسی خاندانوں کے درمیان ریاستی وسائل، طاقت پرقبضہ کرنے کی جدوجہد ہے۔

ایندھن کا سب سے بڑا درآمدی بوجھ (20 بلین ڈالر سالانہ) ہونے کی وجہ سے، ہمیں تقریباً 150,000 سرکاری کاروں کوواپس لے لینا چاہئے، جو پورے پاکستان میں حکام کے ذریعے غلط استعمال میں لائی جارہی ہیں، پاکستان جیسا ملک جو دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، اسے برطانیہ سے سیکھنا چاہئے کہ جہاں تمام سرکاری وزارتوں کے مرکزی پول میں صرف 83 کاریں رکھی جاتی ہیں۔

پنجاب، سندھ اور کے پی میں حکومتوں نے سرکاری افسران کے لیے ایندھن کا کوٹہ کم کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن ملک کے حالات اشرافیہ طبقے کے لیے مزید کٹوتیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کا بوجھ عام عوام جس میں زیادہ تر تنخواہ دار طبقہ ہے اور مزدوروں پر ڈالا جا رہا ہے۔

سرکاری دفاتر میں تمام ائیرکنڈیشنرز اور ٹی وی سیٹ ختم کرنے سے بجلی، ضائع ہونے اور بجلی کے بلوں کی بچت ہو سکتی ہے جس کے سالانہ 10 ارب روپے بنتے ہیں۔ چار روزہ کام کا ہفتہ تمام سرکاری یوٹیلیٹی اخراجات پر 15% اضافی بچت لا سکتا ہے۔

تمام گاڑیوں کی درآمد پر پابندی لگا کر ہماری معیشت میں اشرافیہ کے ڈیڈ ویٹ کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔ بڑی ایندھن والی گاڑیوں کو چلانے کی مثبت طور پر حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ گاڑی چلانے والے کو ٹول ٹیکس ادا کرنا چاہیے جو گاڑی کے سائز کے ساتھ تیزی سے بڑھتا ہے۔

اخراجات کو کم کرنے کی کوئی بھی کوشش اس وقت تک نامکمل رہے گی جب تک کہ مسلح افواج سمیت تمام بڑے اداروں کو غیر معمولی کفایت شعاری کے اقدامات، رسمی اور غیر آپریشنل اخراجات کو کم کرنے اور رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ میں کم از کم 5 فیصد کمی لانے کا کام سونپا جائے۔

اگرچہ شہباز شریف کی حکومت پاکستان کے لیے قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے جو اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کے مشن کی خلاف ورزی کی وجہ سے روک دیا گیا تھا، لیکن اقتصادی محاذ پرملک کی صورتحال میں زیادہ بہتری نہیں آ رہی۔

گرین بیک PKR کے خلاف اتنا ہی مضبوط ہے جتنا کہ تھا، اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ عوام کا غم و غصہ آنے والی حکومت کے لیے بھی ایک مسئلہ ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کے اقدامات کے نتائج برآمد ہوں گے یا حالات جوں کے توں رہیں گے۔

Related Posts