اپنے وطن میں جان کا خطرہ، ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی کھلاڑیوں کو آسٹریلیا میں ویزے جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

انسانی ہمدردی
(فوٹو: آن لائن)

آسٹریلیا میں ایرانی خواتین فتبال ٹیم کی 5 کھلاڑیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کردئیے گئے ہیں۔ گزشہ ہفتے جنوبی کوریا کے خلاف میچ سے قبل قومی ترانہ نہ گانے کے بعد ٹیم سکیورٹی خدشات کا شکار ہوگئی تھی جن کی جانوں کو خطرات لاحق تھے۔

تفصیلات کے مطابق ایران میں قومی ترانہ نہ گانے کے معاملے پر ٹیم پر کڑی تنقید ہوئی۔ آسٹریلیا کے امیگریشن منسٹر ٹونی ورک کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو آسٹریلین پولیس نے محفوظ مقام پر منتقل کردیا، اگر ٹیم کی دیگر کھلاڑی ملک میں رہنا چاہیں تو انہیں یہ سہولت دی جاسکتی ہے۔

ٹونی ورک نے کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایران کی فٹبال ٹیم کی ممبران سیاسی کارکن نہیں بلکہ صرف کھلاڑی ہیں جو اپنی حفاظت کیلئے ایسا کر رہی ہیں۔ اس معاملے پر کئی روز سے مذاکرات جاری تھے۔

معاملہ کیا ہے؟

اس سے قبل ایران قومی خواتین فٹبال ٹیم کی کھلاڑیوں نے سزا کے خوف سے وطن واپسی سے انکار کردیا تھا۔ دراصل ان کھلاڑیوں نے اپنے آخری میچ میں مبینہ طور پر احتجاجاً قومی ترانہ نہیں پڑھا۔ جس پر ایرانی سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا گیا کہ خواتین کھلاڑیوں کو واپسی پر سزا دی جائے گی۔

کھلاڑیوں کے جرم کو بغاوت کے مترادف قرار دیا گیا، جس سے یہ تأثر زور پکڑ گیا کہ کھلاڑیوں کو وطن واپسی پر سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔ اس پر میچ کے بعد بس میں بیٹھی خواتین کھلاڑیوں نے ہاتھوں سے سائن بنا کر واضح کیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے جس پر وہاں موجود لوگوں نے بس کا گھیراؤ کرلیا اور ان کی مدد کی تھی۔

Related Posts