آسٹریا کی پارلیمنٹ نے متنازعہ قانون منظور کرتے ہوئے 14سال سے کم عمر اسکول جانے والی بچیوں کے اسکارف پہننے پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ مذہبی تنظیمیں اسے ملکی آئین کے خلاف اور مسلمان مخالف قرار دے رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 14سال سے کم عمر بچیاں سرکاری اور نجی دونوں طرح کے اسکولز میں روایتی اسلامی اسکارف پہن کر نہیں جاسکیں گی جبکہ قانون پیش کرنے والی 3 سیاسی جماعتوں کا اتحاد اسے صنفی مساوات کی جانب ایک قدم قرار دے رہا ہے۔
مذکورہ قانون کے متعلق ایک عام رائے یہ ہے کہ اس سے اسلاموفوبیا کو تقویت ملے گی جبکہ 2020 میں اسی نوعیت کی پابندی 10سال سے کم عمر بچیوں پر لگائی گئی جسے آئینی عدالت نے یہ کہہ کر کالعدم قرار دیا کہ اس کا ہدف صرف مسلمان ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا 14سال سے کم عمر بچیوں کے اسکارف پر پابندی لگانا مسلمانوں کو ہدف بنانے کی پالیسی کا حصہ نہیں؟ جبکہ نئے قانون کی خلاف ورزی پر طالبات کو اسکول انتظامیہ اور سرپرستوں کے ہمراہ متعدد نشستوں میں شریک ہونا پڑے گا۔
خلاف ورزی دہرائے جانے کی صورت میں فلاحِ اطفال کے ادارے کو مطلع کیا جائے گا جبکہ آخری مرحلے میں والدین یا سرپرستوں کو 800یورو تک جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ آسٹرین حکومت کے مطابق یہ اقدام بچیوں کی آزادی کی حفاظت کیلئے اٹھایا گیا ہے۔
شریعت کیا کہتی ہے؟
سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ 14سال یا اس سے کم عمر بچیاں چونکہ نابالغ ہوتی ہیں، اس لیے اسکارف ان کی شرعی ضرورت نہیں ہے تاہم مشرقی معاشروں میں اور بالخصوص اسلام پر عمل کرنے والے والدین بالخصوص اپنی کم عمر بچیوں کو بھی شروع ہی سے اسکارف کی عادت ڈالتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہوسکتا ہے بالغ ہونے کے بعد ایسی بچیاں جو اسکارف نہیں پہنتیں، آگے بھی اسی عادت کو برقرار رکھنا چاہیں، جو شریعت کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس لیے والدین بچیوں کو اسکارف میں دیکھنا اور خود بچیاں بھی یہ اسکارف پہننا چاہتی ہیں کیونکہ وہ اپنی والدہ سمیت تمام خواتین کو اسی حلیے میں دیکھتی ہیں۔
یوں آسٹرین حکومت کا یہ فیصلہ کہ 14سال سے کم عمر بچیوں کو اسکارف نہ پہننے دیا جائے، شرعی احکامات پر چلنے کے خواہش مند افراد کی مذہبی آزادی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے اور آسٹریا جیسے مذہبی و سماجی طور پر آزاد معاشرے میں ایسی پابندی کا نفاذ بذاتِ خود کسی لعنت سے کم نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








