بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ نے 16 افراد کی جان لے لی جبکہ درجنوں مزدور لاپتہ ہیں۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
یہ واقعہ میرپور ضلع میں واقع ایک چار منزلہ گارمنٹس فیکٹری میں پیش آیا، جہاں آگ نے چند ہی منٹوں میں پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔
At least 16 people killed when fire tore through chemical and garments factory in Bangladesh's capital Dhaka, officials say pic.twitter.com/ei8f4pzOfx
— TRT World Now (@TRTWorldNow) October 14, 2025
فائر بریگیڈ کے عملے نے تین گھنٹے کی سخت جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا، تاہم قریب ہی موجود کیمیکل گودام رات گئے تک جلتا رہا۔
فائر سروس کے مطابق، 16 جلی ہوئی لاشیں موقع سے برآمد کی گئیں جن کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے دوران کئی دھماکے بھی سنے گئے، جس کے بعد آگ تیزی سے قریبی عمارتوں میں پھیل گئی۔
فائر سروس کے ڈائریکٹر محمد تاج الاسلام چودھری نے بتایا کہ زیادہ تر افراد کی موت زہریلی گیس کے باعث ہوئی جو کیمیکل مواد کے جلنے سے خارج ہوئی۔
WATCH || Nine workers are killed and eight injured after a fire breaks out at a garment factory and a chemical warehouse in Bangladesh’s capital, Dhaka on Tuesday. Reports say nine bodies are recovered from the first and second floors of the factory. pic.twitter.com/uC0eCbzSca
— DD India (@DDIndialive) October 14, 2025
ابتدائی معلومات کے مطابق گودام میں بلیچنگ پاؤڈر، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور پلاسٹک مواد ذخیرہ کیا گیا تھا، جو آگ کو مزید شدت دینے کا سبب بنا۔
کارخانے کے باہر درجنوں غمزدہ خاندان اپنے لاپتہ پیاروں کی تصویریں لیے بیٹھے دکھائی دیے۔
ایک مزدور فرزانہ اختر کے والد نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جب آگ کی خبر ملی تو میں فوراً یہاں پہنچا، لیکن ابھی تک میری بیٹی کا کچھ پتہ نہیں، میں صرف اسے زندہ یا مردہ دیکھنا چاہتا ہوں۔
#Bangladesh: At least 16 workers killed and several injured in a fire at a garment factory and chemical warehouse in Dhaka.#Bangladesh #FireAccident #GarmentFactory #BreakingNews #Dhaka pic.twitter.com/50sRHa6ZLM
— Lokmat Times Nagpur (@LokmatTimes_ngp) October 14, 2025
حکام نے اب تک یہ تعین نہیں کیا کہ آگ پہلے فیکٹری میں لگی یا کیمیکل گودام میں۔ پولیس اور فوج کے افسران نے گودام اور فیکٹری مالکان کی تلاش شروع کر دی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کیمیکل اسٹوریج قانونی طور پر قائم کیا گیا تھا یا نہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق رات نو بجے تک کیمیکل گودام میں آگ مکمل طور پر نہیں بجھائی جا سکی تھی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔
بنگلہ دیش میں صنعتی آگ کے واقعات عام ہیں، جن کی بنیادی وجہ غیر معیاری انفراسٹرکچر اور محفوظ کاری کے کمزور نظام ہیں۔ 2021 میں ایک فوڈ فیکٹری میں آگ لگنے سے 52 افراد جبکہ 2019 میں ڈھاکا کے تاریخی علاقے میں آگ سے 78 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
ملک کی بدترین صنعتی تباہی 2013 میں رنا پلازا حادثے کے دوران پیش آئی تھی، جب آٹھ منزلہ عمارت گرنے سے 1100 سے زائد مزدور ہلاک ہوئے، جس نے فیکٹریوں میں محفوظ ماحول کی سنگین کمی کو بے نقاب کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








