بھارت کے شہربنگلور سے ایک غیر معمولی خبر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے، ایک خاتون جوڑی نے حمل کی خوشخبری کا اعلان کیا جس نے نہ صرف مقامی برادری بلکہ پورے ملک میں حیرت اور تجسس کی فضا پیدا کر دی۔
یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی اور روایتی سماجی تصورات کے ساتھ ساتھ سائنسی امکانات پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔
اس ویڈیو میں دونوں خواتین نے اپنے آنے والے بچے کی خبر خوشی کے ساتھ سنائی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا طوفان برپا ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے اس واقعے کو جدید سائنس اور محبت کی جیت قرار دیا تو بعض نے اس پر حیرت اور شک و شبہات کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اسٹارٹ اپس چھوڑو، بنگلور نے تولیدی نظام میں بھی انقلاب لا دیا ہے، سرمایہ کار توجہ دیں۔
ایک اور صارف نے سوال اٹھایا کہ یہ آخر ممکن کیسے ہوا؟ کچھ لوگوں نے فخر سے کہا کہ ایسی باتیں صرف بنگلور میں ہی ممکن ہیں کہ جبکہ چند افراد نے اسے ثقافتی الجھن قرار دیا۔
ماہرین طب کے مطابق جدید تولیدی ٹیکنالوجی جیسے آئی وی ایف اور مصنوعی بارآوری کے ذریعے ہم جنس جوڑوں کے لیے حمل ممکن ہے۔
بنگلور کی اس خاتون جوڑی کے معاملے میں بھی ماہرین کا خیال ہے کہ اس عمل میں سائنسی طریقوں کا استعمال کیا گیا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس نے والدین بننے کے خواب کو ہر صنف کے لیے ممکن بنا دیا ہے۔
قانونی اعتبار سے بھارت میں ہم جنس جوڑوں کے حقوق کو سپریم کورٹ نے تسلیم کیا ہے تاہم شادی، سرپرستی اور گود لینے سے متعلق قوانین اب بھی ان کے لیے پیچیدہ اور مبہم ہیں۔
سرروگیسی اور والدین بننے کے دیگر طریقوں پر موجود قانونی رکاوٹیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بھارت میں معاشرتی اور قانونی تبدیلیاں ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں۔
یہ وائرل خبر نہ صرف سائنسی ترقی کا مظہر ہے بلکہ معاشرتی سوچ میں تبدیلی کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہے۔ بنگلور کی اس خاتون جوڑی کی کہانی نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ محبت اور مادریت کی سرحدیں اب صرف روایات کی قید میں نہیں رہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








