ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے چین سمیت دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی آرٹیفیشل جیولری کے لیے نئے کسٹمز ویلیوز مقرر کر دئیے ہیں۔ ان نئی قدروں کا اطلاق مختلف اقسام کی الیکٹروپلیٹڈ جیولری پر ہوگا، جن میں سفید یا سنہری رنگ کی بغیر پتھروں والی جیولری، پتھروں یا موتیوں سے مزین جیولری، اور کرسٹل اسٹونز یا بیڈز والی فینسی الیکٹروپلیٹڈ جیولری شامل ہے۔
حکام کے مطابق یہ نئی ویلیوز برانڈڈ یا ڈیزائنر جیولری پر لاگو نہیں ہوں گی۔ ایسی مصنوعات کی کسٹمز تشخیص کسٹم ایکٹ 1969 کے سیکشن 25 کے تحت الگ طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔
اس سے قبل مصنوعی جیولری کی ویلیوایشن Valuation Ruling No. 1871-2024 کے تحت طے کی گئی تھی تاہم یہ رولنگ دو سال سے زیادہ پرانی ہوچکی تھی۔ درآمدی اعداد و شمار اور عالمی مارکیٹ میں بدلتے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف بی آر نے کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 25 کے تحت نئی ویلیوز کے تعین کا عمل شروع کیا۔
اس سلسلے میں مختلف اجلاس منعقد کیے گئے جن میں درآمد کنندگان اور متعلقہ شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان ملاقاتوں کے دوران متعلقہ اشیاء کی ویلیوایشن سے جڑے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ تاجروں کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات اور تجاویز کو بھی جانچا گیا۔
مصنوعی جیولری درآمد کرنے والوں کے نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ یہ مصنوعات جلد خراب ہونے، نقص پیدا ہونے اور فیشن کے بدلتے رجحانات سے متاثر ہوتی ہیں اس لیے کسٹمز ویلیوز میں مناسب ردوبدل ضروری ہے۔ حکام نے جولائی 2025 سے فروری 2026 تک کے درآمدی ڈیٹا اور فراہم کردہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد نئی ویلیوز طے کیں۔
مزید برآں مختلف مارکیٹوں کا سروے بھی کیا گیا جہاں ان مصنوعات کی اصل فروخت قیمتیں حاصل کی گئیں۔ منافع اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ کیا گیا جس کے بعد کسٹم ایکٹ 1969 سیکشن 25/7 کے تحت نئی کسٹمز ویلیوز کا حتمی تعین کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پورا عمل شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








