معاشی بدحالی اور اربوں کی سرمایہ کاری

تازہ ترین

تازہ ترین

ملکی معیشت آہستہ آہستہ کمزوری کی طرف گامزن ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے اربوں کی امداد موصول ہونے کے دعوے عالمی اداروں کی رپورٹس اور معیشت کے حقیقی اعدادوشمار سے مطابقت نہ رکھنے کے باعث ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔

حال ہی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سعودی وزیر اعظم و ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور پھر یہ اطلاع سامنے آئی کہ سعودی عرب پاکستان میں 10 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ڈپازٹ کی گئی رقم بھی 5ارب ڈالرز تک بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کی مثالی اور مذہبی بنیادوں پر گہری دوستی اور روابط اپنی جگہ، معذرت کے ساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ اب غور و خوض کا وقت تو گزر چکا، اس لیے اگر پاکستان کو ڈیفالٹ سے واقعی بچانا ہے تو عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ مہنگائی کا عفریت غریب عوام کو جرائم پر مجبور نہ کردے۔

بے روزگاری پہلے ہی کیا کم تھی کہ حکومت نے ایل سیز نہ کھول کر درآمدات و برآمدات کرنے والی صنعتوں کا کاروبار ٹھپ کردیا اور پھر بڑی تعداد میں بے روزگاری کی نئی لہر نے جنم لے لیا جو آہستہ آہستہ بے شمار افراد کا روزگار نگلتی جارہی ہے۔بے شمار صنعتیں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں اور جو نہیں پہنچیں، انہیں بھی حالات سے بہتری کی زیادہ امید نہیں۔

 متوسط طبقے کی بڑی تعداد جو کرائے کے گھروں میں گزارہ کرنے پر مجبور ہے، اپنے اہلِ خانہ کو 3 سے 2 یا پھر 2 سے 1 کمرے کے گھر میں  اور اپنے بچوں کو مہنگے سے متوسط اور پھر سستے ترین اسکول میں داخل کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ تعلیم کا حال جو بد سے بد تر تھا، اب بد ترین ہوتا جارہا ہے۔

جن لوگوں کی ماہانہ آمدنی 1 لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے، انہیں بھی موجودہ دور میں مشکلات کا سامنا ہے تو سوچئے جو لوگ حکومت کے طے کردہ کم سے کم ترین تنخواہ کے معیار 25 ہزار ماہانہ یا اس سے بھی کم پر گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں، ان کا کیا حال ہوگا؟

یوٹیلٹی بلز اور توانائی کے بحران نے الگ کمر توڑ رکھی ہے تو بچوں کی پڑھائی کے اخراجات اور گھروں کے بڑھتے ہوئے کرائے غریب عوام کو الگ پریشان کر رہے ہیں۔ ایسے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے امداد حاصل کرنے والے عوام یا پھر فلاحی اداروں کے دستر خوان پروگرام سے کھانا حاصل کرنے والوں کیلئے بہتری کی کیا امید کی جاسکتی ہے؟

بلاشبہ دسترخوان پروگرام ہو یا بے نظیر انکم سپورٹ، دونوں پروگرامز سے متوسط طبقوں کی اچھی خاصی مدد ہوجاتی ہے، تاہم مہنگائی کے اس دور میں اتنی مدد بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ عوام دن رات کھانے پینے اور روزگار کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ تعلیم، ترقی اور خوشحالی کے خواب تعبیر سے محروم ہوگئے۔

موجودہ حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں میں بہتری لانا ہوگی تاکہ آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی اداروں کا اعتماد حاصل کیا جائے جس کے بعد دوست ممالک سے بھی امداد کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

 

Related Posts