ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان میں دکھوں اور تکلیفوں کے سوا کچھ نہیں ہے اب جبکہ پوری دنیا کورونا وائرس وبائی بیماری کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے اور اس کی توجہ افغانستان سے ہٹ گئی ہے جس کے باعث یہاں تشدد کی فضاء دوبارہ قائم ہوگئی ہے۔
اس ہفتہ کے شروع میں ایک دل دہلانے والا واقعہ پیش آیا جس میں مسلح افراد نے ایک زچگی کے اسپتال پر حملہ کیا جس میں دو نوزائیدہ بچوں، ان کی ماؤں اور نرسوں سمیت 24 افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسپتال کے انکیوبیٹرز میں گیارہ بچے موجودتھے۔ ان میں سے کچھ کے نام تک نہیں رکھے گئے تھے، یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے کہ اس حملے میں ان کی ماؤں کی موت واقع ہوگئی تھی۔
اس واقعے سے قوم حیرت میں ہے کہ کیا اس ملک میں امن بحال ہوگا؟کچھ تصویریں ایسی دیکھنے کو ملیں کہ دو بچوں کی لاشوں کے قریب ایک عورت مردہ زمین پر پڑی ہوئی ہے جس نے اپنے بچے کو اپنے بازوؤں میں لپیٹا ہوا ہے، ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے اتنا کافی تھا، افغان طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری سے انکار کیا اور اس حملے کا ذمہ دار داعش کو ٹھہرایا ہے۔
اسپتالوں پر حملہ انسانوں کے خلاف جنگی جرم میں شمار ہوتا ہے، اس واقعے کے بارے میں افغان نائب صدر کا کہنا تھا کہ بچوں اور عورتو ں پر طالبان کا حملہ انتہائی احمقانہ حرکت ہے۔
افغانستان میں امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے اس حملے کی ذمہ داری داعش کے عسکریت پسندوں پر ڈال دی ہے۔ ان کا اب بھی خیال ہے کہ امن کا واحد راستہ افغانستان میں ہونے والی بات چیت کا عمل ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے مذاکرات شروع ہونے میں ناکامی کا الزام افغان طالبان اور انتظامیہ پر عائد کیا ہے۔
داعش نے کئی حالیہ حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے اور اب اس کا براہ راست تصادم افغان طالبان سے ہوسکتا ہے۔ افغان حکومت نے ایک داعش رہنما کو گرفتار کیا ہے اور ممکن ہے اس کا بدلہ لیا جاسکتا ہے کیونکہ اس دہشت گرد گروپ نے بھی امن مذاکرات کی مخالفت کی ہے۔
اسی دن ایک اور حملہ ننگرہار میں ہوا جہاں ایک پولیس کمانڈر کی آخری رسومات کے موقع پر ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک مرا ہوا شخص بھی افغانستان میں تشدد سے نہیں بچ سکتا۔
افغانستان کو نہ صرف آخری دو دہائیوں کی جنگ سے بلکہ کورونا وائرس وبائی بیماری سے بھی ایک غیر یقینی اور تاریک مستقبل کا سامنا ہے۔ دوحہ سمجھوتہ کے ذریعے جنگ کا خاتمہ ہونا تھا لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس معاہدے کا خاتمہ ہورہا ہے اور بیرونی دنیا سے اس حوالے سے بہت کم مدد مل رہی ہے۔