ایران پر خونریز حملے: پاکستان کا سفارتی امتحان

تازہ ترین

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی ایک ایسا سنگین موڑ اختیار کر گئی ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف مربوط حملوں نے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے میں جوابی کارروائیوں اور وسیع تر ہنگامہ خیزیوں اور خونریزیوں  کو جنم دیا جو مشرق وسطیٰ کو خاک اور خون میں نہلا رہی ہیں۔

ایران کے دارالحکومت میں کلیدی حکومتی اور علامتی مقامات پر حملے کیے گئے، جن میں ریاستی نشریاتی ادارہ اور عالمی ثقافتی ورثے کا حامل گلستان محل بھی شامل ہے، اور ہلاک شدگان کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ اس بحران کے تناظر میں امریکی اور اسرائیلی بیانات اور فوجی اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا اصل ہدف ایران کے فوجی اور سٹریٹجک اثاثوں کو کمزور کرنا ہے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ ہو جائے اور اسرائیل اپنی من مانی جاری رکھتے ہوئے اپنے عزائم کو پورا کرسکے۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی گزرگاہوں کو مکمل بند کردیا  اور خطے میں امریکی و اتحادی اہداف پر یکے بعد دیگرے حملہ کرنا شروع کرکے   اپنی جوابی کارروائی کا آغاز کیا، جس سے خلیج اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

اسی دوران حزب اللہ کی جانب سے کسی میزائل حملے کے خطرات سے حفاظت کے پیش نظر  لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے دوسرے روز بھی جاری رہے، جس کی وجہ سے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے ائیرپورٹ پر جوابی کارروائی کی۔ بیروت کے جنوبی مضافات میں نئے حملوں کے بعد کم از کم 52 افراد ہلاک اور 154 زخمی ہوئے، جبکہ حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی رڈار اور کنٹرول رومز کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے لبنان کے 59 علاقوں میں جبری نقل مکانی کے نوٹس جاری کیے، خاص طور پر شیعہ اکثریتی مضافاتی علاقوں میں، جنہیں حزب اللہ کے حمایتی حلقوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کی جنگ نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی شدت اختیار کر گئی ہے، اور شہری آبادی مسلسل اس کشمکش میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں قطر انرجی نے رس لفان اور مسیعید کی گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد ایل این جی پیداوار مکمل طور پر معطل کر دی ہے۔ سعودی آرامکو کی سب سے بڑی ریفائنری رس تنورہ پر ایرانی ڈرون حملے کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں، جہاں محدود آگ لگی تھی جو کنٹرول کر لی گئی۔

 اس کے علاوہ، خطے میں دیگر ممالک بھی اس بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔ قطر میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو میزائل العدید ائیرپورٹ پر لگے اور متعدد دھماکوں کی آوازیں دوحہ میں سنی گئیں، جبکہ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود میں آٹھ ڈرونز کو ناکارہ بنایا جبکہ کچھ ڈرونز امریکی سفارت خانے سمیت اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب بھی رہے۔ امریکی دفاعی حکام (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف آپریشن کے دوران کویت میں تین امریکی ایف 15 ای لڑاکا طیارے کویتی فضائی دفاعی نظام کی غلطی سے فائرنگ کے نتیجے میں گر کر تباہ ہو گئے، تاہم تمام چھ پائلٹ محفوظ بچ گئے اور ان کی حالت مستحکم ہے، جبکہ  مشرق وسطیٰ  کے دیگر ممالک میں امریکی شہریوں کو خطرات کے پیش نظر فوری انخلا کے لیے کہا گیا ہے۔ دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر محدود پروازیں بحال کی گئی ہیں، جبکہ یواے ای نے بھی کچھ محدود پروازوں کی اجازت دی۔

یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پورے خطے میں بے چینی اور عدم تحفظ کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ اب اس وقت مسلم دنیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ متحد ہو کر خود کو اس لامتناہی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی چالوں سے مجموعی طور پر محفوظ بنانے کی راہیں تلاش کرے۔مجموعی طور پر، موجودہ بحران نہ صرف ایران کی بقا کی جنگ ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے نئے توازن کی تشکیل اور مسلم امہ کی سیاسی خودمختاری کے لیے فیصلہ کن لمحہ بھی ہے۔ علی لاریجانی اور دیگر ایرانی رہنما اس بحران میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ لبنان، سعودی عرب، قطر، کویت اور یواے ای کے حالات بھی اس کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کی توجہ اور خطے میں رہنے والے ممالک کی حکمت عملی مستقبل کی سمت طے کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

خصوصاً ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد خطے کی صورتِ حال ایک غیر معمولی اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، جو اسے جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر لا کھڑا کرتی ہے، اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، تاہم  پاکستان اس معاملے میں ایک اچھی پوزیشن پر ہے اور اب تک کی سفارت کاری بھی نفاست سے جاری رکھے ہوئے ہے جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی اس شدت اور حدت کو کم کرنے میں نہ صرف  معاونت کار ثابت ہوسکتا ہے، بلکہ پاکستان خارجہ پالیسی کے اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں وہ فریقین کو فیس سیونگ  کا راستہ نکال کر دے سکتا ہے۔ پاکستان ایران امریکا جنگ کے اس شورش زدہ ماحول میں ایک ایسی سفارت کاری لے کر ابھرا ہے، جس کے تحت امریکا ، ایران دونوں کو ہی فیس سیونگ کا موقع فراہم ہوسکتا ہے اور اس بات کی منطق یہ ہے کہ امریکا میں ٹرمپ کی ریٹنگ بتدریج کم ہوتی جارہی ہے۔ حتیٰ کہ 39فیصد تک جا پہنچی ہے  اور کانگریس میں سخت اختلافات اور بحث شروع ہوگئی ہے کہ ٹرمپ نے آرٹیکل 2 کے سیکشن 2 کے تحت حاصل  اختیارات استعمال کرتے ہوئے، ایران کے جوہری اور دہشت گردی کے فوری خطرے کی بنیاد پر حملے کا فیصلہ کیا، لیکن یہ کانگریس کی منظوری کے بغیر اور قانونی طور پر متنازع ہے کیونکہ امریکا کو فی الفور اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں سمجھا جاسکتا، جبکہ سی آئی اے سربراہ نے  بھی جو بریفنگ کانگریس کو دی، اس میں ایسے یقینی خطرے کا کوئی ذکر نہیں تھا، جس سے یقیناً ٹرمپ اور انتظامیہ پر دباؤ پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایران اپنی جنگی حکمتِ عملی اور یہ جانتے ہوئے کہ ایران اپنی پوری قوت سے اس پیچیدہ جنگ سے نبرد آزما نہ ہوا تو وہ اس کیلئے یومِ حشر کے مترادف ہوگا اوراسی وجہ سے ایران نے خطے کے تقریباً تمام لینڈنگ اسٹرپس کو ناکارہ بنانا شروع کردیا جو کہ عسکری حکمت عملی کا کلیدی جزو نظر آتا ہے جس میں جنگ طول پکڑنے کی صورت میں امریکی اپنے ہتھیارواوزار کی سپلائی برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔ اس منظر نامے کے پیش نظر ہر فریق چاہے گا کہ کوئی ایسا راستہ نکل آئے کہ جس میں ایران کو یورینیم افزودگی کے مطالبے کو تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہ ہو جس کا عندیہ پہلے بھی مل چکا ہے، جبکہ امریکا ایرانی میزائلوں سے متعلق  مطالبے سے گریز  کرے تو ایسی صورت میں اس جنگ سے جان چھڑائی جاسکتی ہے، بصورتِ دیگر باقی جانی و مالی نقصان کے علاوہ پوری دنیا معاشی نقصان سے ہلنا شروع ہوگئی ہے اور آگے چل کر ناقابل برداشت حد تک پہنچ سکتی ہے، جس سے دنیا میں عوام کی زندگی اجیرن ہوجائے گی۔

ایران عسکری اعتبار سے اگرچہ امریکا کے برابر نہیں، تاہم وہ ایک قدیم تہذیب اور مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کا حامل ملک ہے۔ سابق عسکری سربراہ قاسم سلیمانی سمیت متعدد ایرانی سائنسدانوں اور عسکری شخصیات کی ہلاکت کے باوجود ایران کا ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا ہے۔ برسوں کی پابندیوں نے ایران کو متبادل اور مقامی معیشت کی طرف مائل کیا، جس سے اس نے مزاحمتی صلاحیت پیدا کی۔ پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس کے خلیجی ریاستوں کے ساتھ گہرے معاشی و دفاعی روابط ہیں، بالخصوص سعودی عرب جو حرمین شریفین کا متولی ہے اور جس کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاہدے بھی موجود ہیں۔ ادھر ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد کسی بھی عسکری توسیع کے براہِ راست اثرات کو پاکستان تک لا سکتی ہے۔ ایسے میں خلیجی ممالک، چین اور امریکا ، سب کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا ایک کثیرالجہتی سفارتی امتحان بن چکا ہے اور اس امتحان میں پاکستان اب تک کامیابی سے ہمکنار ہوتا نظر آرہا ہے۔

Related Posts