بڑھتی ہوئی مہنگائی

تازہ ترین

تازہ ترین

 اکانومسٹ میگزین نے اپنے تازہ ترین شمارے میں  42 ممالک کے علاوہ یورو ریجن میں مہنگائی کے متعلق بتایا کہ سب سے زیادہ 51.4 فیصد شرحِ مہنگائی ارجنٹائن میں ہے جبکہ ترکی 19.6 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ، برازیل 10.2 فیصد کے ساتھ تیسری پوزیشن پر اور پھر چوتھے نمبر پر پاکستان رہا جس میں افراط زر 9 فیصد بتائی گئی ہے۔ 

مہنگائی پاکستانیوں کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ ہے۔ پچھلے 3 مہینوں کے دوران زیادہ تر اشیاء اور خدمات کی قیمتیں جو اکثریت استعمال کرتی ہے، اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ تقریبا ًہر چیز جو لوگ کھاتے، پہنتے اور استعمال کرتے ہیں وہ بہت مہنگی ہوگئی ہے، جس سے کم آمدنی والے گھروں پر منفی اثر پڑتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتیں باقاعدہ طور پر ماضی کی قیادتوں کو ملک میں جاری بحرانوں، مہنگائی اور افراطِ زر کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔ حکومت پالیسیوں اور اقدامات کے ذریعے بحران کو ختم کرنے کے بجائے اپوزیشن کے خلاف الزام تراشی میں مصروف ہے۔

جب وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آئے تو انہوں نے کرپشن کو روکنے اور معیشت کو بلند کرکے شہریوں بالخصوص محنت کش طبقے کی زندگی کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا۔ تحریکِ انصاف کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں مہنگائی ہے تو وزیراعظم کرپٹ ہے۔ پھر ہمیں یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ اب کرپٹ کون ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ پالیسی کی غلط ترجیحات مثلاً دوسروں کی اندھا دھند پیروی، زراعت کو نظرانداز کرنا، گھریلو رسد میں رکاوٹوں کو حل کرنے میں ناکامی وغیرہ نے قیمتوں میں اضافے میں اتنا ہی کردار ادا کیا جتنا کسی حالیہ غیر ملکی عنصر نے کیا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول سستا ہو سکتا ہے لیکن ہماری فی کس آمدنی بہت کم ہے جس سے یہ فائدہ نقصان میں بدل جاتا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ مہنگائی کا ایک اور بم جلد ہی پاکستانی عوام پر گرایا جائے گا کیونکہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ مختصر اور درمیانی مدت میں اپنے بیرونی شعبے کو برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف معاہدے کی بحالی انتہائی ضروری ہے۔

تاہم یہ عام لوگوں کے لیے بری خبر ہے۔ بجلی کو بہت زیادہ مہنگا کرنے کے علاوہ آئی ایم ایف پاکستان کو آمدنی ، کھپت اور درآمدی ٹیکس کو بڑھانے کے اقدامات کو نافذ کرنے پر مجبور کرے گا تاکہ پاکستان اپنے محصولات کے ہدف کو پورا کرے۔ ہر قسم کی سبسڈی کو ختم یا نمایاں طور پر کم کرے اور شرح سود میں اضافہ کرے۔

مہنگائی میں اضافہ کرنے والی ان کارروائیوں کا خمیازہ بنیادی طور پر کم آمدنی والے خاندان برداشت کریں گے۔ حالات خاص طور پر غریبوں کے لیے بدتر ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنا مشکل ہو جائے گا۔ ہمیں موجودہ حکومت سے پوچھنا ہے کہ کیا عوام کے مسائل آپ تک پہنچ رہے ہیں اور کیا واقعی آپ انہیں حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہیں؟

Related Posts