لندن: برطانوی ایوانِ بالا (ہاؤس آف لارڈز) میں قانون سازوں نے بھارت کے جنگی جرائم پر سوالات اٹھا دئیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی ایوانِ بالا کے قانون سازوں نے وزیر اعظم رشی سونک کی زیرِ قیادت برطانیہ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مداخلت کرکے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی روکے۔
امریکا میں ہم جنس پسندوں کے کلب پر حملہ، 5 ہلاک
برطانوی ایوانِ بالا کے قانون سازوں نے کہا کہ برطانیہ کو جموں و کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بھارت کی صورتحال پر خصوصی بحث بھی ہوئی۔
بحث کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے لارڈ قربان حسین نے برطانوی حکومت سے سوال کیا کہ کیا جموں و کشمیر اور بھارت کے مابین مستقبل میں کسی آزاد تجارتی معاہدے کو انسانی حقوق سے منسلک نہیں کیاجاسکتا؟
کئی دیگر برطانوی قانون سازوں نے بھی بحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے بھارت کے مظلوم کشمیریوں سے غیر انسانی سلوک اور جنگی جرائم پر سخت سوالات اٹھادئیے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل برطانیہ میں افراطِ زر 41 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ گئیں جس سے شہریوں کا جینا اجیرن ہونے لگا۔
برطانیہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی عوام کیلئے گھریلو بجٹ تیار کرنے میں مشکلات پیدا کرنے لگی۔ دودھ، پنیر اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








