انتہا پسند ہندو کی وحشیانہ حرکت! عیسائی لڑکی کو زبردستی فرنچ کس کرنے کی ویڈیو وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل کے ایک کارکن ابھجیت یادو نے کرسمس کے موقع پر ایک ڈرامے کے دوران اسٹیج پر زبردستی داخل ہو کر ایک مسیحی لڑکی کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جس نے ملک بھر میں مسیحی برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یادو پروگرام کے دوران اسٹیج پر چڑھ کر لڑکی کے قریب جاتا ہے اور مبینہ طور پر اسے فرنچ کس (بوسہ) کی کوشش کرتا ہے جس پر حاضرین میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔

یہ واقعہ بھارت میں مسیحی اقلیت کے خلاف بڑھتے ہوئے انتہا پسند رویوں کی ایک اور مثال ہے جہاں کرسمس کی تقریبات کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں آسام، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور دہلی سمیت کئی ریاستوں میں بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) سے وابستہ کارکنوں نے مسیحی تقریبات میں مداخلت کی،آرائشیں توڑی، کارول گانے والے گروپس کو ہراساں کیا اور مذہبی تبدیلی کے جھوٹے الزامات لگا کر تشدد پر اتر آئے۔

آسام میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک سکول میں کرسمس کی آرائش توڑ دی جس پر چار افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دہلی کے لجپت نگر میں سانٹا کیپ پہنے مسیحی خواتین اور بچوں کو مذہب تبدیل کرنے کے الزام میں دھمکایا گیا اور علاقے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

یہ واقعات بھارت میں انتہا پسند ہندو گروپس کی اقلیتوں، خاص طور پر مسیحیوں اور مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا حصہ ہیں۔ یونائیٹڈ کرسچن فورم کے مطابق 2025 میں اب تک مسیحیوں کے خلاف 700 سے زائد تشدد کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں گرجا گھروں کو نقصان پہنچانا، نماز کی تقریبات میں خلل ڈالنا اور جھوٹے تبدیلی مذہب کے مقدمات شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اینٹی کنورژن قوانین کے غلط استعمال کے ذریعے پولیس اور انتہا پسند گروپس مسیحیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جس سے اقلیتوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

ماہرین اور حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ ہیں جو اقلیتوں کو معاشرتی اور سیاسی طور پر حاشیہ پر دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کرسمس کے مقدس دنوں میں بھی تشدد کا سایہ بھارت کے سیکولر آئین اور جمہوری اقدار پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

مسیحی برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انتہا پسندوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ اقلیتوں کو تحفظ مل سکے ورنہ یہ سلسلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

Related Posts