کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے صرف حکومت کی اچھی کارکردگی شامل نہیں ہوتی بلکہ عوام کا تعاون حکومت کیساتھ اور حکومت کا تعاون عوام کے ساتھ ہونا ضروری ہے لیکن ہمارے ملک میں نظام بنانے والے اور نظام کو چلانے والے ہمیشہ الگ الگ سوچ رکھتے ہیں جس کا خمیازہ عام آدمی کو اٹھانا پڑا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام ہمیشہ حکومتوں سے نالاں رہتے ہیں ۔
اگر بادی النظرمیں دیکھا جائے تو بجٹ بنانے والوں نے کوشش یہ کی ہے کہ اپنے طور پر عوام اور ملک کیلئے بہتری لائی جائے اور سب سے بڑی رقم عوام کی فلاح و بہبود یا ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کی گئی ہے مگر کیا اسے نیک نیتی سے استعمال کیا جائیگا اور اس رقم سے ملک اور عوام کی بہتری ہوگی یا نہیں یہ ایسا سوال ہے جو اکثر عوام کے ذہنوں میں گردش کرتا ہے۔
حکومت نے اس بجٹ جس طرح موجودہ ٹیکس نظام میں تبدیلیوں کی کوشش کی ہے ، کیا وہ نظام کامیاب ہوگا یعنی کیا عوام از خود ٹیکس ادائیگی کی طرف جائینگے یا نہیں کیونکہ اس بجٹ میں ایسا نظام پیش کیا گیا ہے کہ اب کوئی انکم ٹیکس افسر کسی انسان کو دباؤ میں لاکر ٹیکس وصول نہیں کرسکتااس سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور عوام کااعتماد بحال ہوگاجس کی وجہ سے امید ہے کہ عوام ازخود ٹیکس دینا شروع کردینگے۔
عوام اس ملک میں اکثر ٹیکس اس وجہ سے نہیں دیتے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کے پیسوں کا درست استعمال نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کو عوامی سطح پر ان کو ٹیکس کے بدلے کوئی سہولیات میسر آتی ہیں۔نہ سرکاری اسکول نہ سرکاری اسپتالوں کا نظام بدلتا ہے، ٹرانسپورٹ کی کوئی سہولت نہیں ملتی تو عام آدمی سمجھتا ہے کہ اس کا ٹیکس دینا پیسوں کا ضیاع ہے کیونکہ اس کا استعمال اس کو نظر نہیں آتا۔
اگر دیکھا جائے تو کسی بھی مشکل کی گھڑی میں پاکستانی عوام اپنی تجوریاں کھول دیتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر فلاحی کاموں میں حصہ لیتے ہیں لیکن جب حکومت کو ٹیکس دینے کی باری آتی ہے تو عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ جب ہمیں کوئی مطلوبہ سہولیات میسر نہیں تو ہم ٹیکس کیونکر ادا کریں۔
حکومت نے اس بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں کمی کا فیصلہ کیا ہے جو کہ نہایت غلط ہے اس سے زیادہ تر لوگ گاڑیاں خریدیں گے جس سے ٹریفک کا دباؤ بڑھے گا، پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں اضافہ ہوگا جس کی وجہ سے آئل انڈسٹری کی امپورٹ میں اضافے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئیگی اور اس لئے گاڑیوں کی خریداری معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی ۔ حکومت کو گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کو ترجیح دینی چاہیے تھی اور پاکستان کے ہر علاقے میں ٹرانسپورٹ سسٹم بنایا جائے اور 40 ذاتی گاڑیوں کی نسبت ایک بس زیادہ سود مند ثابت ہوسکتی ہے ۔
دنیا کے زیادہ امیر ممالک میں بھی ذاتی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی آئل انڈسٹری کی ضرورت زیادہ نہیں ہوتی لیکن پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیاں ذاتی ضرورت بن چکی ہیں ، اگر پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتربنادیا جائے تو ہر انسان ذاتی سواری پر خرچ ہونیوالی اپنی آمدن کا خاصہ حصہ بچا سکتا ہے ۔
حکومت نے ایک نیا نظام شروع کیا ہے جو کہ بیرون ممالک اس کو مارگیج سسٹم کہا جاتا ہے یعنی بینکوں سے رقوم لیکر آپ اپنا گھر لے سکتے ہیں جس میں 90 فیصد بینک اور 10 فیصد آپ ادا کرتے ہیں،یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو کہ ان انسانوں کیلئے بہتر ہے جو یہ سمجھتے کہ وہ اپنی سیونگز کو 10 سال تک جمع رکھ سکتے ہیں لیکن اس میں نوکری پیشہ افراد کو سوچ سمجھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں نوکریوں کو عدم تحفظ کی وجہ سے پاکستان میں بیروزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے اور اگر آپ اس اسکیم میں شرکت کرنے کے بعد نوکری سے محروم ہوجاتے ہیں تو آپ کی سرمایہ کاری ڈوب سکتی ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں یہ نظام پنپ نہیں سکتا۔
ہمارے اس بجٹ کا دارومدار آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل پر ہے کیونکہ اگر آئی ایم ایف نے بجلی ، گیس اور تیل کی قیمتیں بڑھادیں تو ہمارا نظام بہت مشکل سے چلے گا اور ہمارا ملک ایک بار پھر مشکلات کی گہری دلدل میں دھنس جائیگا۔