پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے تھانہ دراہمہ کی حدود میں واقع بستی کالجوں کی ایک مسجد میں کم سن طالب علم کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں ملوث قاری حافظ ناصر حسین چجھڑا دوران گرفتاری زخمی ہو گئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے مطابق ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈیرہ غازی خان کا رہائشی ہے اور اس نے مسجد کے اندر بچے کے ساتھ غیر فطری فعل کیا جس پر وہ شدید شرمندہ ہے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ اپنے عمل پر پشیمان ہے اور آئندہ ایسی حرکت کا ارتکاب نہیں کرے گا۔
کیا مسجد میں بدفعلی، بلاسفیمی توھین مذھب یا توھین رسالت یا گستاخی نہیں ھے؟
اصل میں یہی لوگ ہیں جن پر 295 سی لگنی چاہیے مگر سوشل میڈیا کے بے پناہ دباؤ پر نیفے میں پستول چلا دیا گیا. لیکن توہین مسجد یا توہین مذہب کی دفعہ ان جیسے مذہبی درندوں پربھی لگنی چاہئے pic.twitter.com/MVMfoEGXEq— آریان خان (@2222hollywood) February 15, 2026
واقعہ کے مطابق چند روز قبل ملزم کو مسجد میں بچے کے ساتھ مبینہ طور پر غیر فطری عمل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا تھا۔ اس موقع پر اہل محلہ وہاں پہنچ گئے اور ویڈیو بھی بنائی گئی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے مقدمہ درج کیا اور ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائی شروع کی۔
ملزم مبینہ طور پر ملتان فرار ہو گیا تھا۔ سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ) کی ٹیم جب گرفتاری کے لیے پہنچی تو ملزم نے فرار کی کوشش کی۔ اس دوران اس کی ذاتی پستول (جو نیفے میں رکھی ہوئی تھی) چل گئی اور وہ زخمی ہو گیا۔ زخمی حالت میں اسے گرفتار کرکے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس سے تفتیش جاری ہے۔
ملزم کے خلاف متاثرہ بچے کے والد کی مدعیت میں تھانہ دراہمہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ قانونی اور طبی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
مسجد میں معصوم بچے سے بد فعلی! اہل محلہ نے قاری کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا! نازیبا ویڈیو وائرل
اس واقعے نے سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ مذہبی درسگاہوں اور مساجد میں بچوں کی نگرانی سخت کی جائے اور والدین اپنے بچوں کو تنہا نہ چھوڑیں۔ پاکستان بھر میں نابالغ بچوں سے جنسی استحصال کے واقعات بدستور تشویش کا باعث ہیں اور ایسے کیسز میں فوری انصاف کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








