خیموں میں سحر، ملبے پر افطار! غزہ کے رہائشی سنگین بحران میں بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

غزہ کی پٹی میں مسلسل تیسرے سال بھی رمضان المبارک ایک ایسی خونریز جنگ اور سنگین انسانی بحران کے سائے میں شروع ہو رہا ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے کو مفلوج کر دیا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے جاری تباہ کن کارروائیوں نے غزہ کے باسیوں کو معاشی بدحالی، بے گھری اور شدید خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔

وہ رمضان جو کبھی روشن بازاروں، سجی ہوئی دکانوں، قطایف اور کھجوروں کی خوشبو اور گلیوں میں جگمگاتے فانوسوں سے پہچانا جاتا تھا اب ملبے، خیموں اور ادھورے دسترخوانوں کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بار رمضان کی تیاریوں کا تصور بھی ممکن نہیں، کیونکہ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ افطار کے لیے کچھ میسر بھی ہوگا یا نہیں۔

خان یونس کی ساحلی شاہراہ الرشید پر زاہر القدرہ اپنے تباہ شدہ کاروبار کی یادوں کے ساتھ ایک عارضی خیمے میں محدود پیمانے پر اشیائے خورونوش فروخت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل ان کا اسٹور علاقے کے بڑے کاروباری مراکز میں شمار ہوتا تھا مگر بمباری نے گھر اور دکان دونوں کو ملبے میں بدل دیا۔

گیس اور ایندھن کی قلت نے خیموں میں کھانا پکانا بھی دشوار بنا دیا ہے۔ اسی طرح رفح سے بے دخل ہونے والے 57 سالہ ریٹائرڈ ملازم ایمن مہنا کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی بندش اور قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے لوگوں کو شدید مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق مسلسل جنگ کے باعث غزہ میں بے روزگاری کی شرح 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ نقد رقم کی قلت اور تباہ حال انفراسٹرکچر نے عوام کی قوتِ خرید تقریباً ختم کر دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں رمضان اب خوشیوں اور رونقوں کا مہینہ نہیں بلکہ بقا کی ایک اور آزمائش بن چکا ہے جہاں ہر خاندان اپنی زندگی بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

Related Posts