کیا عورتیں بھی مردوں کی طرح اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فائل فوٹو

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں لاکھوں مرد روزہ دار مسجدوں میں اعتکاف بیٹھتے ہیں، کیا خواتین بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں؟

آگے سے بڑھنے سے پہلے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اعتکاف کیا ہے؟

اعتکاف کسے کہتے ہیں؟
اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں۔
تاہم اعتکاف صرف آخری عشرے تک ہی محدود نہیں ہے، پورے رمضان المبارک کے دوران اعتکاف کرنا بھی ثابت ہے اور بہت سے لوگ پورے مہینے کا اعتکاف کرتے ہیں۔
اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ کیا عورتیں بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں؟
عورتیں اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں؟

فقہا نے لکھا ہے کہ عورت کے لیے بھی رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنت ہے اور ثواب کا باعث ہے، تاہم فقہ حنفیہ میں عورتوں کے لیے مسجد میں اعتکاف کرنا اچھا نہیں ہے، ان کے لیے اعتکاف کی جگہ  وہ ہے جسے اپنے گھر میں نماز، ذکر، تلاوت اور دیگر عبادت کے لیے خاص اور متعین کرلیا گیا ہو اور عورتوں کے کے لیے گھرا کی یہ خاص جگہ ایسی ہے جیسے مردوں کے لیے مسجد ہے۔

اگر گھر میں عبادت کے لیے پہلے سے خاص جگہ متعین نہیں ہے  تو اعتکاف کے لیے گھر کے کسی کونے یا خاص حصے میں چادر یا بستر وغیرہ ڈال کر ایک جگہ مختص کرلے، پھر اس جگہ اعتکاف کرے، اور وہ جگہ عورت کے حق میں مسجد کے حکم میں ہوگی، اعتکاف کی حالت میں طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر وہاں سے باہر نکلنا درست نہیں ہوگا۔

فقہاءِ احناف کے نزدیک  عورتوں کے لیے گھر کی مسجد میں اعتکاف کرنا نہ صرف جائز  ہے، بلکہ یہی بہتر ہے۔ باقی اگر  عورت مسجدِ شرعی میں اعتکاف کرے (جب کہ پردے اور دیگر شرعی احکامات کی مکمل رعایت ہو) تو اعتکاف تو ہوجائے گا، لیکن  یہ مکروہ ہے، کیوں کہ موجودہ زمانہ فتنہ وفساد کا زمانہ ہے، مساجد میں مردوں سے اختلاط کا قوی اندیشہ ہے، اس عورت کیلئے مسجد کے بجائے گھر میں اعتکاف زیادہ بہتر ہے۔

Related Posts