کاربن کا اخراج اور سیلاب

تازہ ترین

تازہ ترین

گزشتہ روز تک پاکستان میں سیلاب کے باعث 1162 افراد جاں بحق جبکہ 3554 زخمی ہوئے تھے۔ ساڑھے 7لاکھ کے لگ بھگ مویشی بھی ہلاک ہوگئے اور ہزاروں کلومیٹرز طویل سڑکوں کو نقصان پہنچا جبکہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنا کہ بتائے جارہے ہیں۔

ظاہر ہے کہ درجنوں علاقوں کا زمینی رابطہ پاکستان کے دیگر شہروں سے منقطع ہوچکا ہے اور جیسے جیسے این ڈی ایم اے کو دیگر نقصانات کا پتہ چلتا ہے، رپورٹ جاری کردی جاتی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں اتنا جانی اور اتنا مالی نقصان ہوا جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ سفاک اور بھیانک ہے۔

آج سے 3روز قبل 29اگست کو برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کلاؤڈیا ویب نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ قطبِ شمالی کے بعد سب سے زیادہ گلیشیئرز پاکستان میں ہیں جن کی تعداد 7 ہزار 253 بنتی ہے۔ یہ تمام تر عظیم برفانی پہاڑ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ پاکستان ہماری لالچ کی قیمت چکا رہا ہے۔

یہاں کلاؤڈیا ویب کے بیان کو وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ رکنِ برطانوی پارلیمنٹ نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسز کے عالمی اخراج کے صرف 1 فیصد حصے کا ذمہ دار ہے مگر ماحولیاتی تبدیلیوں میں پاکستان سرِ فہرست 10 ممالک میں شامل ہوچکا ہے۔

اگر ہم گرین ہاؤس گیسز اور کاربن کے اخراج کے ذمہ دار دنیا کے چوٹی کے ممالک کا جائزہ لیں تو سرِ فہرست ممالک میں امریکا، چین، روس، جرمنی اور برطانیہ نظر آتے ہیں جو صنعتی ترقی کے نام پر دنیا کو فضائی آلودگی اور گرین ہاؤس اثر کی زد پر لے آئے ہیں جس کے شدید اثرات پاکستان بھی بھگتنے پر مجبور ہے۔

گلیشیئرز سے مراد وہ عظیم برفانی پہاڑ ہیں جو پاکستان کی خوبصورتی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے وسیع آبی ذخیرے کا بھی کام سرانجام دے رہے تھے، تاہم بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور درجۂ حرارت میں عالمی اضافے کے باعث یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، نتیجتاً پاکستان سیلاب جیسی آفت کا شکار ہوا۔

جب بھی کوئی زلزلہ یا آفت آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاہم اس موقعے پر بنی نوع انسان کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان میں آنے والا سیلاب یا مغربی ممالک بشمول آسٹریلیا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ کوئی آسمانی آفت قرار نہیں دی جاسکتی بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کاربن اخراج کے ذمہ دار ممالک پاکستان سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ممالک کی تکلیف کو سمجھیں اور کاربن کا اخراج بتدریج کم کرکے موسم کی خوفناک تبدیلیوں سے ترقی پذیر ممالک کو بھی نجات دلائیں۔ بصورتِ دیگر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہونے والی اموات کا ذمہ دار ایسے ہی تمام ممالک کو قرار دیا جائے گا۔

Related Posts