تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہونے کے ناتے کراچی اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود نہ صرف مسائل کا شکار رہا ہے بلکہ اس کی مشکلات میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ وجوہات تو کئی ہیں لیکن اصل وجہ اس کی بے سروسامانی ہے، کراچی کا کوئی پرسان حال نہیں۔

سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کراچی پر حکمرانی کا خواب تو دیکھتی ہے مگر کراچی کے مسائل کے حل کیلئے پیپلز پارٹی کوئی کردار ادا کرنے کی بجائے تمام تر ذمہ داری ایم کیو ایم پر ڈال دیتی ہے جبکہ کراچی سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی اور بلدیاتی نمائندے بے بسی کا رونا روتے رہتے ہیں۔

ایم کیوایم عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے خود مسائل کا شکار ہے، اندرونی اختلافات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہے اور شہری سندھ کی یہ جماعت تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جارہی ہے۔

تاہم گزشتہ دنوں  ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک بار پھر کراچی میں مردم شماری کا مسئلہ اٹھایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 سال سے لوگ روزگار کی غرض سے کراچی آرہے ہیں، لیکن حیران کن طور پر کراچی کی آبادی کم دکھائی گئی، گزشتہ مردم شماری میں تو حد ہی کردی گئی۔

کراچی کی آبادی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت کم دکھایا گیا،ایم کیوایم ارکان قومی اسمبلی نے مردم شماری کےآڈٹ کیلئے آواز اٹھائی لیکن آج تک تھرڈ پارٹی آڈٹ نہیں کرایا گیا، پاکستان کو کماکر دینے والے شہر کی آبادی کو صحیح طورپر گننے کو کوئی تیار نہیں ہے۔

نادرا ریکارڈ کے مطابق 2013 میں کراچی کی آبادی 2 کروڑ 14 لاکھ، 48 ہزار 781 تھی جبکہ مردم شماری 2017ء کی مردم شماری میں شہر قائد کی آبادی ایک کروڑ 49 لاکھ 10 ہزار 352 بتائی گئی ہے۔

جس شہر میں آبادی کا دباؤ رہا ہواور پورے ملک سے لوگ اس شہر میں  منتقل ہورہے ہوں اس کی آبادی میں گذشتہ 17 برس میں صرف 60 فیصد اضافہ دکھایاجارہا ہے جو منطقی اور علمی طور پرممکن نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی 10 سالوں سے سندھ پر حکمرانی کررہی ہے ، صوبائی حکومت اس عرصے میں کراچی کیلئے کسی ایک بھی بڑے پروجیکٹ کا آغاز نہیں کر سکی تاہم نیب کی منی لانڈرنگ کے خلاف تحقیقات میں لاڑکانہ کے دو ٹاؤنز پر مشتمل چھوٹے سے علاقے کو کراچی سے بھی زیادہ بجٹ دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

تعلقہ ڈوکری کی 2015 کے ریکارڈ کے مطابق آبادی محض سوا 5 لاکھ ہے جبکہ ڈوکری کو 10سالوں میں 20 ارب سے زائد کے فنڈز دیئے گئے اور یہ تمام فنڈز ترقیاتی کاموں کے نام پر خرچ کیے گئے مگر علاقے میں کوئی کام نہیں ہوا۔

ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے جن کمپنیوں کو دیئے گئے وہ صرف کاغذات میں تھیں، کمپنیوں کے نام پر جاری رقم اہم شخصیات کے اکاؤنٹس اور بعدازاں بیرون ملک منتقل کی گئیں۔نیب ذرائع کے مطابق افسران سمیت 100 سے زائد ٹھیکیداروں کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔

بد قسمتی سے کرپشن کی وجہ سے صوبے کے عوام صاف پانی، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی ضروریات سے بھی محروم رہے ہیں۔کئی علاقے ایسے ہیں جہاں ہفتوں پانی نہیں آتا اور غریب لوگ مہنگے داموں ٹینکرزکا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی کے اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں میں بھی صفائی ستھرائی کا کوئی نظام نہیں، کراچی کئی مقامات پر گٹر ابلتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ شہر میں سیوریج کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، سندھ حکومت کراچی کے مسائل کا حل چاہتی ہے تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور فنڈز فراہم کرے تاکہ بلدیاتی نمائندے عوام کی مشکلات میں کمی لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے عوام کو الیکشن سے پہلے جوخواب دکھائے تھے وہ صرف خواب ہی رہ گئے جبکہ کراچی کے شہری آج بھی ٹرانسپورٹ اور سیوریج جیسے مسائل سے دوچار ہیں، حکمراں جماعت نے کراچی سے سب سے زیادہ ووٹ لیے اور حکومت بنائی لیکن کراچی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی شہر آج بنیادی مسائل کا شکار ہے، اب کراچی والو کا یہ حق ہے کہ ان کے بنیادی مسائل کو حل کیا جائے۔

Related Posts