اقوامِ متحدہ کے اسپیشل رپورٹیورز اور آزاد ماہرین نے پاک بھارت جنگ پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے بھارت کے یکطرفہ اقدامات ، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ہیں، پر تشویش کااظہارکیا۔ پہلگام حملے کے ذمہ داروں کو سزا دینے پر زور دیا اور بتایا کہ بھارت پاکستان کے اس حملے میں ملوث ہونے کے قابلِ اعتبار شواہد نہیں دے سکا۔
رپورٹ کے مطابق ایک جوہری طاقت کی سرزمین پر یکطرفہ فوجی طاقت کا استعمال بڑے تصادم کا خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔بھارت نے 7مئی کو آپریشن سندور کے متعلق سلامتی کونسل کو اطلاع نہیں دی۔ پاکستان کے حق دفاع کو بھی تسلیم کیا گیا اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بھی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ عالمی و سفارتی افق پر پاکستان اپنی روایتی و عسکری ڈپلومیسی کے سبب نمایاں پذیرائی حاصل کرچکا ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے اور جس بھارت کے خلاف یہ کامیابی حاصل ہوئی ، وہ بھارت معرکہ حق کے سبب شکست فاش سے دوچار ہوا۔ شکست کی ہزیمت کو مٹانے کیلئے بھارت نے افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو دوام بخشنے کا سلسلہ شروع کردیا ۔ اور بھارت کی پشت پناہی کے نتیجے میں پاکستان سرحد پار سے دہشت گردی کا شکار ہورہا ہے اور بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان کی دہشت گردی کو دوام بخشنے کی حقیقت سے بھی پردہ چاک ہونا شروع ہوگیا ہے۔
اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان طالبان کے اپنی سرزمین دہشت گردی میں استعمال نہ ہونے دینے کے دعوے قابل اعتماد نہیں۔ یہ تجزیہ اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی 16ویں رپورٹ میں شامل ہے جو سلامتی کونسل میں بحث کیلئے جمع کرائی گئی۔
آج سے 5سال قبل 29فروری 2020 کو امریکا کے ساتھ دوحہ امن معاہدے میں طالبان نے وعدہ کیا کہ افغانستان کو دیگر ممالک کیلئے خطرہ نہیں بننے دیں گے لیکن اگست 2021 میں اقتدار پانےکے بعد طالبان کا رویہ بدل گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان کے کچھ سینئر اراکین ٹی ٹی پی کو بوجھ سمجھتے ہیں جو پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خراب کرتی ہے تاہم دیگر اس کے حامی ہیں۔ اگرطالبان ٹی ٹی پی کو روکنا بھی چاہیں تو شاید ان کے پاس وہ صلاحیت ہی نہیں، لیکن طالبان اس کے اعتراف سے اجتنا ب کرتے رہے ہیں، باوجود اس کے ، کہ ثالثوں نے اور پاکستان نے ایسی صورت میں مدد کا عندیہ دیا تھا۔ رپورٹ میں پاکستان کا یہ مؤقف تسلیم کیا گیا کہ ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کئی بڑے حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔
چند روز قبل پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگہی دی کہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی پاکستان کیلئے سب سے بڑا اور سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کررہا ہے اورافغان سرزمین ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کی محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے جس کے تباہ کن نتائج فی الوقت سب سے زیادہ پاکستان کو بھگتنے پڑ رہے ہیں تاہم آگے چل کر اس سے نہ صرف خطے کی سلامتی غیر مستحکم ہوسکتی ہے بلکہ یہ وبا دنیا کے دیگر حصوں تک بھی پھیلنے کا احتمال ہے۔ طالبان حکومت نے داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سمیت مختلف گروہوں کو محفوظ ٹھکانے دے رکھے ہیں جن کے درجنوں کیمپ سرحد پار حملوں میں مدد دے رہے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ اب تک کم از کم 10 مختلف مواقع پر عالمی برادری نے افغان طالبان کو خبردار کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے اور اگر وہ خود دہشت گردی ختم نہیں کرسکتے تو پاکستان سمیت دیگر ممالک سے مدد مانگ سکتے ہیں، تاہم طالبان نے کسی ایک بھی موقعے پر دہشت گردی کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔
مثال کے طور پر حال ہی میں چین، روس ، پاکستان اور دیگر ممالک نے افغانستان سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات پر اظہارِ تشویش کیا۔ تہران میں افغانستان کی صورتحال پر چین، روس، پاکستان اور دیگر ممالک نے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کی تاہم افغانستان نے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے افغانستان کیلئے نمائندہ خصوصی محمد صادق نے کہا کہ افغانستان کے پڑوسی صرف ایک ایسے افغانستان پر ہی اعتبار کرسکتے ہیں جو دہشت گردوں کو پناہ نہ دیتا ہو۔
گزشتہ روز اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں، سلامتی کونسل کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی اور دیگر غیرملکی دہشت گرد عناصر کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی واضح تائید کرتی ہے۔ دہشت گرد عناصر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، سرحدی کشیدگی، فائربندی کی عدم موجودگی، بارڈر بندش اور تجارت کی معطلی دہشت گردی سے منسلک ہے، پاکستان کے تحفظات اقوام متحدہ کی رپورٹس سے ہم آہنگ ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں دہشت گرد گروہوں کے نام بطور داعش خراسان، ٹی ٹی پی، القاعدہ، اتحاد المجاہدین اور دیگر کے طور پر واضح کیے گئے ہیں اور شنید یہ ہے کہ افغانستان میں مزید 27ہزار د ہشت گرد شام سے بھی آگئے ہیں اور طالبان نے انہیں بھی پناہ دے دی ہے۔
اس صورتحال سے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی تشویش کا شکار ہیں جبکہ افغان طالبان کی مسلسل ہٹ دھرمی کے باعث خطے کی سلامتی کی صورتحال ہر گزرتے روز کے ساتھ نازک ہوتی جارہی ہے۔ اگر طالبان حکومت اس ہٹ دھرمی پر قائم رہتی ہے تو کوئی بعید نہیں کہ اس پر کثیر جہتی حملہ کرکے دہشت گردوں کا صفایا کیا جائے تاہم دیگر ممالک کی جانب سے کی جانے والی اس ممکنہ کارروائی کے نتیجے میں افغان عوام کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا ہوگا اور ایسی صورتحال میں خدشہ یہ ہے کہ افغان مہاجرین کی لاکھوں کی تعداد میں پاکستان کو منتقلی اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور جرائم سمیت دیگر عوامل کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑے گا۔ ضروری ہے کہ افغان طالبان حکومت ہوش کے ناخن لے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق دہشت گردی کا خاتمہ یقینی بنائے۔
سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ افغانستان اس دہشت گردی پر قابو کیسے پائے گا؟ تو اس کا جواب کچھ یوں دیا جاسکتا ہےکہ اگر طالبان حکومت دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بفرضِ محال تیار ہوجائے تو پاکستان، چین ، ترکی ، قطر اور روس سمیت خطے اور اس سے باہر کے ممالک بھی ان کی مدد کیلئے تیار ہیں۔ اگر طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کی پاسبانی بند کردے تو خطے کے سر پر آتا ہوا ایک بہت بڑا طوفان ٹل جائے گا۔
اس کے باوجود کہ پاکستان افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے اثرات بھگت رہا ہے اور اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا ہے لیکن پھر بھی یہ ضروری ہے کہ ایسی حکمت عملی تیار کی جائے جس میں اس تنازعے کو حل کرنے کیلئے نوبت طاقت کے استعمال تک نہ آئے اور اگربفرض محال آبھی جاتی ہے تو اقوام عالم کو ساتھ لے کر چلنا اشد ضروری ہوگا۔ وگرنہ اس کے اثرات پاکستان کومعاشی، سیاسی ، سماجی اور معاشرتی لحاظ سے بھگتنا پڑیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں