سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت 2 ججز کے مابین ناخوشگوار گفتگو

تازہ ترین

تازہ ترین

چیف جسٹس
(فوٹو: جیو نیوز)

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت 2 ججز کے مابین سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ناخوشگوار گفتگوہوئی ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر نے کیس کی سماعت کے دوران آپس میں ناخوشگوار جملوں کا تبادلہ کیا۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل انتخابات میں کوئی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ الیکشن کمیشن احکامات میں منطق دکھائی نہیں دیتی۔

ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک جانب الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا، پھر پارلیمانی جماعت بھی تسلیم کرتا ہے۔ اگر پارلیمانی جماعت قرار دینے کے پیچھے پی ٹی آئی کی شمولیت ہے تو وہ ہوچکی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کی درستگی کرسکتا تھا۔

اسی دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ اگر الیکشن کمیشن تصحیح کرے تو نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں گی، سنی اتحاد کونسل کو نہیں۔ عوام نے کسی آزاد کو نہیں بلکہ سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دئیے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ججز کے سوالات پر درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی کو جواب دینے سے رک جانے کی ہدایت کی۔

سنی اتحاد کونسل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ ہم آپ کی سماعت کیلئے بیٹھے ہیں۔ اپنا فیصلہ کر لیں گے۔ میں عدالت پیش ہوا تو کہا تھا کہ اگر آپ نے فیصلہ کر لیا ہو تو میں کیس ختم کرتا ہوں۔ آپ دلائل ہی نہ دیں تو میں کیا سمجھوں گا کہ آپ کی طرف سے کیا لکھا جائے گا؟ہم فیصل صدیقی کو سن رہے ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے جسٹس منیب اختر نے کہا کہ فل کورٹ میں ہر جج سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل صاحب آگے بڑھئے، میں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی، جسٹس منیب اختر نے ایک بار پھر ریمارکس دئیے کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو تسلیم نہیں کرسکتے۔

Related Posts