پاکستان سمیت دُنیا بھر میں بائیسکل کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

بائیسکل کا عالمی دن
(فوٹو: پکسا بے)

کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھر میں بائیسکل کا  عالمی دن آج منایا جا رہا ہے  جس کا مقصد عوام میں ماحول دوست ذرائع آمدورفت اور حفظانِ صحت  کے متعلق شعور کو فروغ دینا ہے۔ساتویں ورلڈ بائیسکل ڈے کے موقعے پر مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا۔

دنیا بھر میں دھواں چھوڑتی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سنگین موسمیاتی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔  ماحولیاتی آلودگی سے پاک ذرائع آمدورفت کے بارے میں عالمی ادارے اقوامِ متحدہ کے تحت سائیکلنگ کا پہلا عالمی دن 2018ء میں منایا گیا جس سے عوام میں شعور پیدا ہوا۔ ڈنمارک کی کم و بیش 50 فیصد آبادی سائیکل پر ہی سفر کرتی ہے۔

یورپی ملک ڈنمارک میں سائیکلز کیلئے 12 ہزار کلومیٹر طویل ٹریکس بنائے گئے ہیں جبکہ کوپن ہیگن کے عوام روز 3 کلومیٹر سائیکل کے ذریعے سفر کرنے کے عادی ہوچکے ہیں، پل پل دھواں چھوڑنے والے موٹر سائیکل اور کار کے مقابلے میں سائیکل کی مدد سے آمدورفت سے دھواں پیدا نہیں ہوتا اور انسانی ہاتھ پیر مسلسل محنت و مشقت کے عادی ہوجاتے ہیں۔

طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ جسمانی طور پر تندرست و توانا رہنے کیلئے سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں جو بچے اور بوڑھے سب چلا سکتے ہیں۔ کمسن بچوں کیلئے چھوٹی سائیکلز مارکیٹ میں عام دستیاب ہیں جنہیں خرید کر بچوں کو بھی تربیت دی جاسکتی ہے اور موسمیاتی مسائل سے نمٹنے کیلئے نئی نسلوں کو بہترین شعور سے فیضیاب کیاجاسکتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ وزن کم کرنے کیلئے بھی سائیکلنگ ایک اچھی ورزش ہے۔ انسانی جسم کا مدافعتی نظام سائیکلنگ جیسی مکمل جسمانی سرگرمی  سے مضبوط ہوتا ہے جو سر سے لے کر پاؤں تک متعدد انسانی اعضاء پر دباؤ ڈالتی ہے  جس سے انسان کو مختلف اقسام کے کینسر سے بھی نجات ملتی ہے۔جسم کے متعدد پٹھے حرکت میں آ کر توانا ہوجاتے ہیں۔

نہ صرف سائیکلنگ معتدل شدت کی حامل جسمانی سرگرمی ہے بلکہ پیدل چلنا، سائیکلنگ اور کھیلوں میں حصہ لینا جسمانی صحت کیلئے بے حد مفید اقدامات ہیں۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں لوگ بے حس و حرکت ہونے کے باعث مختلف امراض کا شکار  رہتے ہیں، سائیکلنگ کو انسانی صحت کیلئے مفید ترین سرگرمیوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

Related Posts