پی ٹی آئی مخالف بیانیے پر ن لیگ کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

تازہ ترین

تازہ ترین

پی ٹی آئی مخالف
(فوٹو: زی نیوز)

اسلام آباد: پی ٹی آئی مخالف بیانیے پر ن لیگ کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ تحریکِ انصاف کو دیوار سے لگانے کی مسلسل کوششوں کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں کا ماننا ہے کہ پارٹی کو بالغ نظری اپنانے کی ضرورت ہے۔

مقامی اخبار (ایکسپریس ٹریبیون) کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دو رہنماؤں نے پی ٹی آئی مخالف نظریات سے اختلاف کیا ہے جن میں ایک موجودہ رکنِ قومی اسمبلی اور وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیم کے ایک سابق رکن شامل ہیں۔

رکنِ قومی اسمبلی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے لیکن تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور جب مقاصد حاصل ہوجاتے ہیں تو قصہ ختم ہوجاتا ہے اور ساتھ دینے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاملات منطقی انجام تک پہنچے تو اقتدار پی ٹی آئی کا بھی ہوسکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو مسلم لیگ (ن) کے پاس کیا رہ جائے گا؟ اب ن لیگ حکومت میں ہے اور مزید ترقی پسند پالیسی اختیار کرسکتی ہے جس کی توجہ اصلاحات پر ہو۔

رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی دور میں جیل میں قید بھگتنے والے شہباز شریف کی ٹیم کے سابق رکن نے کہا کہ میری رائے کے مطابق اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے مذاکرات کر رہی ہے، ہوسکتاہے کہ ان کو عدالتوں سے ریلیف نہ ملے اور 190 ملین کیس میں فردِ جرم عائد ہوجائے۔

شہباز شریف ٹیم کے سابق رکن کا کہنا تھا کہ جب فردِ جرم عائد ہوجائے گی تو اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو این آر او کی پیشکش کرے گی اور امید یہی ہے کہ عمران خان یہ پیشکش قبول کریں گے۔ اگر ایسا ہوا تو مسلم لیگ (ن) کی قسمت کا رخ بھی بدل سکتا ہے۔

Related Posts