قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے کہا ہے کہ یہ سوچ سراسر غلط ہے کہ پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات بڑھ چکے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے کہا کہ ہم سوچتے ہیں پاکستان میں بچوں کا جنسی استحصال بڑھ گیا، حالانکہ معاملہ ایسا بالکل نہیں بلکہ ہم نے اس معاملے میں طوی عرصے سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
لیجنڈ کرکٹر وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے کہا کہ طویل عرصے سے بچوں کا استحصال خود ہمارے گھروں ، اسکولوں اور مذہبی اداروں میں جاری ہے۔
شنیرا اکرم نے کہا کہ ہمارے بچوں کا ہم پر قرض ہے کہ ہم ان کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور سماج کے ساتھ جنگ کریں کیونکہ جنسی زیادتی بچوں کا نہیں بلکہ ہمارا مسئلہ ہے۔
We think that child abuse has increased in Pakistan, that’s absolutely NOT the case. We have just had our eyes shut for too long. It’s happening in our homes, schools and places of worship. We owe it to our children to wake up and fight for them. It’s not their problem it’s ours!
— Shaniera Akram (@iamShaniera) December 30, 2019
یاد رہے کہ اس سے قبل سیاسی رہنما مفتی کفایت اللہ اور محمد ابرار تنولی نے بچے سے زیادتی کے الزام میں مرکزی ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا جس کا نام قاری شمس الدین بتایا جاتا ہے۔
ہزارہ ڈویژن کے ضلع اپر کوہستان میں چند روز قبل ایک طالب علم کو مدرسہ استاد کی طرف سے جنسی استحصال کا نشانہ بنانے پر جمعیت علمائے اسلام (ف) رہنما مفتی کفایت اللہ نے ملزم کو جلد پولیس کے سامنے پیش کرنے کا وعدہ کیا۔
مرکزی ملزم کی گرفتاری سے قبل پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مدرسے کے مالک اور دیگر 4 ملزمان کو بھی گرفتار کیا جس کے بعد مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے ہزارہ پولیس نے متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔
مزید پڑھیں: بچے سے زیادتی کا مرکزی ملزم پولیس کے حوالے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








