فلاحی تنظیم کی آڑ میں بچوں کی اسمگلنگ کا دھندہ؛ ہوپ کی چیئرپرسن ڈاکٹر مبینہ قاسم گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے ایک بین الاقوامی فلاحی تنظیم ہوپ کی چیئرپرسن ڈاکٹر مبینہ قاسم کو 23 بچوں کو جعلی گود لینے کے دستاویزات کے ذریعے غیر قانونی طور پر بیرون ملک اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی امریکی قونصلیٹ کی شکایت کے بعد عمل میں آئی جس نے اس گھناؤنے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔

ڈاکٹر مبینہ قاسم ایک طویل عرصے سے بچوں کی صحت، تعلیم اور بہبود کے لیے سرگرم تھیں۔ ان کی قیادت میں تنظیم نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں میں غریب اور نادار بچوں کے لیے عید کے تحائف اور خوراک کے پیکجز تقسیم کرنے جیسے فلاحی کام انجام دئیے۔ تاہم ایف آئی اے کے مطابق انہوں نے فلاحی تنظیم کے پردے میں بچوں کی غیر قانونی سمگلنگ کا دھندہ چلایا جس کا خاص طور پر ہدف امریکہ تھا۔

ذرائع کے مطابق امریکی قونصلیٹ کی شکایت پر ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کیں جن میں واضح ثبوت ملنے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزمہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، مگر عدالت نے پیر کے روز اسے مسترد کر دیا۔ اس کے فوراً بعد ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری منظم انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو فلاحی تنظیموں کے نام پر ناجائز کاروبار چلا رہے ہیں۔ حکام نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے اور جلد ہی دیگر ممکنہ سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی متوقع ہے۔

Related Posts