نیدرلینڈز کے شہر یوٹرچ میں پولیس کے ایک افسر نے دو مسلم خواتین کو عوامی مقام پر بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خواتین شاپنگ مال سے باہر نکل رہی تھیں جب پولیس افسر نے ان پر نفرت انگیز جملے کسے اور دونوں کو مارا پیٹا۔ واقعہ شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب، Hoog Catharijne شاپنگ سینٹر کے باہر پیش آیا جہاں کافی لوگ موجود تھے۔
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیاہ برقع پہنی ہوئی ایک خاتون کو پولیس افسر نے ہاتھ پکڑ کر لے جاتا ہے جبکہ دوسری خاتون ویڈیو بنانے لگتی ہیں۔ اپنی حرکت پکڑے جانے کے خوف سے پولیس افسر غصے میں آ جاتا ہے اور ویڈیو بنانے والی خاتون کی جانب لات مارتا ہے جو خاتون اپنے بیگ سے پھنسنے کے بعد زمین پر گر جاتی ہیں۔ پہلی خاتون مدد کے لیے آگے بڑھتی ہیں لیکن پولیس افسر نے انہیں بھی چھڑی سے مارنا شروع کر دیا۔
تشدد کے دوران خواتین چیختی رہیں اور درد اور خوف کی شدت میں ایک مرد نے مداخلت کی کوشش کی تاہم پولیس نے اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں گرفتار کر لیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق، پولیس کی جانب سے اس واقعے میں پیش آنے والے نفرت انگیز رویے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
دونوں متاثرہ خواتین نے اپنے وکیل کے ذریعے پولیس افسر کے خلاف شکایت درج کرائی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افسر نے کہا تھا، “تم اس ملک میں نہیں رہتی ہو۔وائرل ویڈیو میں بھی یہ الفاظ سننے جا سکتے ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر پولیس نے خواتین کے خلاف بھی مقدمہ درج کر دیا ہے جس میں الزام ہے کہ خواتین نے پولیس اہلکار کی بے عزتی کی اور تفتیش میں تعاون نہیں کیا۔
یہ واقعہ نیدرلینڈز میں پولیس کی کارکردگی، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور اقلیتی برادریوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے اور انسانی حقوق کے ادارے اور بین الاقوامی حلقے اس پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








