سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آتشزدگی ایک بچے کی نادانستہ حرکت سے شروع ہوئی۔ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے پریس کانفرنس میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سانحہ کے بعد فوری طور پر کابینہ نے اجلاس کر کے ذیلی کمیٹی تشکیل دی، جبکہ چیف منسٹر نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ذریعے رپورٹ حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق، حادثے کے وقت پلازہ میں تقریباً 2500 افراد موجود تھے جن میں سے بیشتر بچ گئے تاہم 79 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ فائر فائٹنگ نظام نہ ہونے اور ریسکیو آپریشنز میں تاخیر کے باعث نقصان مزید بڑھ گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ رات 10:15 پر لگی جبکہ فائر بریگیڈ کو 10:26 پر اطلاع دی گئی اور پہلا فائر ٹینڈر 10:37 پر موقع پر پہنچا۔ ریسکیو 1122 کے اہلکار 10:53 پر موقع پر پہنچے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ گل پلازہ میں واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی اور سول ڈیفنس کے اہلکار ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حکومت کو بروقت آگاہ نہیں کیے گئے۔ متعلقہ افسران کو معطل کر دیا گیا ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔
جاں بحق افراد کی شناخت
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ گل پلازہ کے 12 افراد کی باقیات کو اینٹی موٹم ڈیٹا، پروف آف پریزنس اور موبائل فون لوکیشن کی مدد سے شناخت کر کے لواحقین کے حوالے کیا گیا ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 39 افراد کی شناخت ہو چکی ہے جن میں 20 ڈی این اے، 12 اینٹی موٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس، 6 چہرہ شناسی اور ایک شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہوئی۔
سندھ حکومت پر سوالات
وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحقیقات شفاف ہیں اور کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب بھی 80 افراد لاپتہ ہیں، ان کی تلاش کون کرے گا؟ سندھ حکومت نے صرف رپورٹ تیار کر کے اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن لاپتہ افراد کی بازیابی اور تحفظ کا کون ذمہ دار ہوگا؟
جوڈیشل کمیشن کی تشکیل
کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سانحہ کی عدالتی تحقیقات کے لیے حاضر سروس ہائی کورٹ کے جج کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ جو بھی قصوروار ہوگا، وہ کمیشن کے ذریعے سامنے آئے گا اور رپورٹ کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی۔
سانحہ کی وجوہات اور ذمہ داریاں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ ایک فلوور شاپ سے شروع ہوئی، جو بچے کے ہاتھوں نادانستہ طور پر بھڑکی۔ آگ اے سی کے ڈکٹس کے ذریعے تیزی سے اوپر کی فلورز تک پھیل گئی۔ گل پلازہ کی بلڈنگ منظوری کے باوجود فائر فائٹنگ نظام موجود نہیں تھا، لیز کے مراحل میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں اور اینٹی کرپشن کو تحقیقات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تجزیاتی پہلو
سانحہ گل پلازہ میں نہ صرف حفاظتی انتظامات ناکافی تھے بلکہ ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی بروقت کارروائی میں بھی کوتاہی ہوئی۔ جاں بحق اور لاپتہ افراد کی تعداد سندھ حکومت کی شفافیت اور انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب بھی 80 افراد لاپتہ ہیں جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے ان افراد کی بازیابی کے لیے کیا عملی اقدامات کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








