کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے ریڈ زون میں اسمارٹ سیف سٹی پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کے آغاز کے لیے محکمہ پولیس سندھ اور این آر ٹی سی کے درمیان 5.5 ارب روپے کے معاہدے کی منظوری دے دی۔
معاہدے کی منظوری وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی جس میں وزیر داخلہ ضیا لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس رفعت مختار، ایم ڈی این آر ٹی سی بریگیڈیئر عاصم اسحاق، ڈی جی سندھ سیف سٹیز اتھارٹی آصف اعجاز شیخ ودیگرنے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اسمارٹ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت ریڈ زون اور ایئرپورٹ کوریڈور میں 300 مقامات پر 1300 سی سی ٹی وی کیمرے آٹھ گھنٹے کے اندر سولر بیک میں ایف آر اور آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن (اے این پی آر) کی صلاحیت کے ساتھ لگائے جائیں گے۔
کیمروں کو سینٹرل پولیس آفس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کیا جائے گا، کراچی پولیس آفس میں مستقل سی اینڈ سی سی قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔
اسمارٹ سیف سٹی پراجیکٹ میں چہرے کی شناخت اور نمبر پلیٹ ریکگنیشن سسٹم کی صلاحیت ہوگی۔
یہ نظام مجرموں/مشتبہ افراد کے لیے ہسپتالوں کی نگرانی، مشتبہ افراد کے خلاف متعدد کیمروں سے باخبر رہنے اور جواب دینے، مجرموں کے ڈیٹا بیس کے انتظام اور قومی، مجرم اور دیگر ڈیٹا بیس کے ساتھ انضمام کی سہولت فراہم کرے گا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس منصوبے کا بہت انتظار تھا ، امید ہے کہ یہ منصوبہ اپنا مقصد حاصل کر لے گا۔میں چاہتا ہوں کہ این آر ٹی سی ڈیڑھ سال میں پہلا مرحلہ مکمل کرے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی کی آبادی 20.38 ملین سے زائد ہے جس میں 2030 تک مزید اضافہ ہو جائے گا، لہٰذا جرائم اور سنگین واقعات پر قابو پانا، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ٹریفک سیفٹی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور ان کا حل تکنیکی انضمام اور سائبر سیکورٹی میں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








