اسلام آباد: حکومت نے سینئر صحافی ارشد شریف کی تصاویر لیک ہونے کے معاملے پر 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنجہانی ٹی وی میزبان ارشد شریف کی والدہ کے حوالے کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے ارشد شریف کی تصاویر لیک ہونے کے معاملے پر 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی پمز ہسپتال اسلام آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد محسود کے سپرد کردی گئی۔
اتحاد ٹاؤن پولیس کی بڑی کارروائی، موٹرسائیکل لفٹنگ گینگ کا سرغنہ گرفتار
ڈاکٹر خالد محسود کی زیرِ صدارت 7 رکنی کمیٹی میں میڈیکل ڈائریکٹر، چیئرمین میڈیکل بورڈ اور میڈیکل بورڈ کے تمام ممبران بھی شامل ہیں۔ کمیٹی میں ڈائریکٹر آئی ٹی پمز اور میڈیکل بورڈ کے کیمرہ مین بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ٹی وی میزبان ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ارشد شریف کی والدہ کو دے دی گئی ہے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کینین حکام سے بھی شیئر کی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) کا دعویٰ ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ارشد شریف کی والدہ کے حوالے کردی۔
دعوے کے مطابق ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر اطہر وحید نے ارشد شریف کی والدہ سے گزشتہ روز ملاقات کی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ ان کے حوالے کرتے ہوئے ارشد شریف قتل کیس کی اب تک کی پیشرفت سے بھی اہلِ خانہ کو آگاہ کیا۔
گزشتہ روز ڈی جی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) محسن حسن بٹ کا کہنا تھا کہ شواہد سے صاف لگتا ہے ارشد شریف کو کینیا میں پلاننگ سے قتل کیا گیا، کینیا پولیس نے ارشد شریف پر فائرنگ میں ملوث شوٹر کوپاکستان کے سامنے پیش کرنے سے اجتناب برتا۔
ڈی جی ایف آئی اے کا مزید کہنا تھا کہ اطہر وحید اور عمرشاہد حامد کینیا پولیس کے 4 شوٹرز سے تفتیش کرناچاہتے تھے لیکن کینیا پولیس نے صرف 3 افراد کو پیش کرنے پر اکتفا کیا۔
اس حوالے سے گزشتہ روز سینیئر ایف آئی اے افسران کا کہنا تھا کہ یقینی نظر آرہا ہےکہ سینیئر صحافی قتل کی سازش کا شکار ہوئے اور یقین ہے ارشد شریف کی ٹارگٹ کلنگ میں کینیا پولیس ملوث تھی۔واضح رہے کہ اس بیان کی کینین پولیس نے تصدیق یا تردید نہیں کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








