کیا بچوں کے درمیان مقابلوں کا انعقاد ہونا چاہئے یا نہیں؟ یہ ایک ایسا مضمون ہے جس میں سالوں سے لوگوں کی جانب سے مختلف رائے دی گئی ہیں، کچھ کا ماننا ہے کہ اس سے بچے کو آج کی تیز رفتار دنیا میں دوسرے سے سبقت لینے کی ترغیب دی جاتی ہے، جبکہ بعض دوسرے افراد کا کہنا ہے کہ اس سے بچوں میں خود اعتمادی ختم ہوسکتی ہے۔کچھ افراد کا کہنا ہے کہ بچے بلاغت کو پہنچنے کے دوران مشکل زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے اس کی زندگی مشکل اور سخت ہوتی ہے۔
ایک طالب علم اپنی زندگی کے ہر حصے میں بھاگ رہا ہوتا ہے، لیکن افسوس اس کا مقصد! جیتنا نہیں بلکہ کسی کو شکست دینا ہوتا ہے۔ جب پرانے زمانے میں ایک بچہ پیدا ہوتا تھا، تو اسے ”اچھا“بنناسکھایا جاتا تھا، مگر اب تصور تبدیل ہورہا ہے اور بد قسمتی سے یہ اتنا عام ہوگیا ہے کہ بہتر ہونے کی کوشش میں اچھا ہونا کہیں گم ہوگیا ہے۔
تحقیق کے مطابق، زیادہ تر طلباء اپنی کارکردگی کے مطلق اعدادوشمار سے متاثر نہیں ہوتے، لیکن ان کے ساتھیوں کی کارکردگی کے بارے میں بتایا جانے پر وہ شدید رد عمل کا اظہا ر کرتے ہیں، اسی لئے ہر قیمت پر جیتنا جارحانہ رویوں کا باعث بن سکتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ، ہمارا تعلیمی نظام ایک پیچیدہ مسابقتی کھیل میں تبدیل ہوگیا ہے جس میں گریڈ، انعامات اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ ہمیں طلباء پر اس کے گہرے اثرات مرتب کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں ان چیزوں کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ یہ جو ہم انعامات کا لالچ دیتے ہیں اس کا بچوں پر برا اثر پڑے گا۔
درجات اور نمبرز پر توجہ مرکوز کرنے میں، اسکول طلباء کے کچھ اہم پہلوؤں کو نظرانداز کرتے ہیں، جیسے سیکھنے کی خوشی، بچوں کی فطری محبت اور دوسروں پر کچھ مخصوص مضامین کو اپنانا، پہیلیاں حل کرنے سے حاصل ہونے والا اطمینان اور چیلنجوں کا فقدان ہے۔.
اوپر آنے پر توجہ مرکوز کرنا، اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بہتر اور برتر ہونا اصل میں اس کی ترغیب دینے سے کہیں زیادہ کمی لاتا ہے۔ جب کوئی جیت جاتا ہے تو، ہر ایک کو یہ پیغام ملتا ہے کہ آپ اتنے بہتر نہیں ہیں، کافی طلباء وطالبات اس باعث اسکول چھوڑ دیتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں سے قابل نہیں۔
ایک اچھا مقابلہ، خاص طور پر کسی کے طاق کے اندر، ایک شخص کو بہتر بناتا ہے۔ تاہم، ایک ایسا مقابلہ جو سب سے بہتر بننے کے عجیب خیالوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے صرف تخریب کاری کا باعث بنتا ہے۔
طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے یہ سب کچھ دیکھا ہے کہ مقابلہ کرتے ہوئے آپ دوسروں سے نہیں جیتتے لیکن آپ یقینی طور پر اپنے آپ کو کھودیتے ہیں اور آپ ایسے شخص بن جاتے ہیں جس کی آپ نے کبھی اُمید نہیں کی ہوتی۔
نظام تعلیم میں انسانی رابطوں کو ترجیح دینے سے ایسے شہری پیدا کرنے میں مدد ملے گی، جو معاشرے میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں۔ نوجوان نسل کو مستقبل میں جن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا وہ اتنی آسانی سے جیت نہیں سکے گی۔ آب و ہوا کی تبدیلی سے لے کر عالمی عدم مساوات تک، یہ وہ تمام مسائل ہیں جن پر اجتماعی، طویل مدتی کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔