قرآن مجید کی آیت ”اور انہیں اُف بھی نہ کہو“ کا بعض والدین یہ مطلب اخذ کر لیتے ہیں کہ اس آیت کی رو سے اولاد ان کے آگے مجبور محض اور پابند ہوگئی ہے۔ لھذا انہیں حق حاصل ہوگیا ہے کہ اولاد کے ساتھ جو چاہے سلوک کریں۔
اگر اس سلوک کے جواب میں وہ ”اُف“ بھی کریں گے تو خدا ان کی گردن دبوچ لے گا۔ یہ بات تو درست ہے کہ اولاد کو اُف کرنے کا حق نہیں مگر یہ نتیجہ آپ نے کہاں سے اخذ کر لیا کہ آپ کو اولاد کے ساتھ کسی بھی سلوک یا من مانی کا حق حاصل ہے؟ یہ صورتحال پیدا کرنے میں ایک بڑا ہاتھ ان جاہل مولویوں کا بھی ہے جو کہتے ہیں کہ ”کفر کے علاوہ ہر بات میں اولاد والدین کی اطاعت کی پابند ہے“۔
مولوی کا یہ جہل سن کر مسجد میں بیٹھا باپ اور پھیل جاتا ہےاور اولاد کی جان مزید عذاب کر دیتا ہے۔ سو پہلی بات تو یہ سمجھ لیجئے کہ قرآن مجید نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ ”ان کے آگے اُف نہ کرو“ بلکہ اس سے قبل ایک جملہ اور بھی ہے جو یہ ہے کہ ”اگر تمہارے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو“ ۔۔۔ یوں گویا پوری بات یہ ہے کہ
”اگر تمہارے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کرو“۔
کیا سمجھے ابو جی؟ اگر آپ کو فری لائسنس حاصل ہے تو یہ ”اُف“ والا حکم آپ کے بڑھاپے یعنی ریٹائرمنٹ والی عمر سے کیوں مشروط ہے؟ بات اب بھی واضح نہیں۔ آئیے آیت کے آخری دو جملے بھی ساتھ ملاکر دیکھتے ہیں۔
”اگر تمہارے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کرو، اور انہیں جھڑکو مت، اور ان سے پیار سے بات کرو“۔
گویا یہ آیت اولاد کو تین احکام جاری کر رہی ہے:
٭ ان کے آگے اُف مت کرنا
٭ انہیں جھڑکنا مت
٭ ان سے پیار سے بات کرنا
جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایک آیت میں گن کر تین باتوں کا حکم دے رہے ہیں تو اس کا سیدھا مطلب ہے کہ اس نے اس حکم نامے کی پوری ”حد ود“ طے کردیں۔ اب یہ تو کوئی فری لائسنس والا ابوجی ہی ہمیں سمجھا دے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اتنے اہم ترین حکم نامے میں یہ آڈر کیوں شامل نہیں کہ ”اور ان کے ہر آڈر کی تعمیل کرو“؟
پاک و ہند کے کاپی پیسٹر مولویوں نے اس آیت کی ذیل میں دو باتیں تسلسل کے ساتھ پیسٹ کر رکھی ہیں۔ پہلی یہ کہ حسنِ سلوک میں اطاعت بھی علی الاطلاق شامل ہے۔ دوسری بات یہ کہ والدین سے حسن سلوک کا موضوع توحید کے موضوع سے متصل چھڑا ہے لہٰذا اس سے والدین کی عظمت بھی ثابت ہوگئی۔ بخدا ہم والدین کی عظمت سے انکاری نہیں۔ یہ انکار تو کوئی بدبخت ہی کرسکتا ہے۔ مگر ہم اس بے ڈھنگی کاپی پیسٹنگ کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔
ہم اسے بے ڈھنگی کاپی پیسٹنگ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ توحید ہی کے موضوع سے متصل ہی سورہ نساء کی آیت نمبر 36 میں بھی والدین کا ذکرآیا ہے۔ اور وہاں والدین کے ساتھ رشتے دار، یتیم، محتاج، پڑوسی، اہل محلہ، شریک مجلس افراد، مسافر اور غلام و باندی بھی شامل ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ عظمت کا نہیں ”حقوق“ کا موضوع ہے۔ ورنہ تسلیم کرکے دکھایئے کہ توحید سے متصل مذکور ہونے پر ان سب کی عظمت بھی والدین جیسی ہی ثابت ہوگئی۔
ایک اور اہم بات یہ کہ اس آیت میں چونکہ والدین کا بڑھاپا زیر بحث نہیں تو یہاں ”اُف“ والا حکم بھی نظر نہیں آرہا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بڑھاپے سے قبل والدین سے بحث و تکرار کی جاسکتی ہے۔ اس سے ہر عمر میں بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے والدین اور اولاد میں کبھی بحث و تکرار نہ ہو۔ اس لئے والدین کے بڑھاپے کی عمر پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فل سٹاپ اس شدت سے لگا دیا کہ ”اُف“ تک ممنوع کردیا۔ جوانی میں تو سخت گیر والدین بدتمیزی پر تھپڑ بھی رسید کردیا کرتے ہیں اور الٹا بھی ٹانگ دیتے ہیں۔ بڑھاپے میں وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ سو اس عمر میں ان سے ہر طرح کی بحث و تکرار پر فل سٹاپ لگا دیا گیا۔
اب آجایئے اطاعت والی کاپی پیسٹنگ کی جانب، اگر کفر کے علاوہ والدین کی ہر بات ماننا لازم ہوتی تو شادی کے معاملے میں اللہ کے رسول ﷺ نے اس بچی کا نکاح کالعدم کیوں کردیا تھا جس کا نکاح باپ نے اپنی مرضی مسلط کرکے کروایا تھا؟ اگر لڑکا یا لڑکی نکاح سے انکار کردے لیکن ماں باپ کہیں
“ہمیں قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے”
تو کیا نکاح ہوجائے گا؟سب سے اہم بات یہ کہ اگر اولاد کفر کے علاوہ ہر حکم کی پابند ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ والدین کو غیر شرعی حکم دینے کی ”اجازت“ ہے۔ اور یہ حکم واجب التعمیل بھی ہے، تو کیا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے 95 فیصد مسلمانوں کے لیے باپ ہونے کی صورت میں غیر شرعی یعنی حرام احکامات جاری کرنا ”حلال“ کر رکھے ہیں؟ جس پر عمل کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ باپ شراب کی بوتل خود نہ خریدے بلکہ بیٹے سے منگوالے ۔اور یوں تبلیغی فلاسفی کے مطابق ابوجی خریدنے کے گناہ سے بچ گئے، انہیں صرف پینے کا گناہ ہوگا۔ اور بیٹا بھی خریدنے کے گناہ سے بچ گیا کیونکہ ابوجی کا حکم تھا۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔
اس ضمن میں چند باتیں اچھی طرح سمجھ لیجئے:
٭ ہر عاقل بالغ شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کا پابند ہے۔ پابندی کرے گا تو اجر اورخلاف ورزی کرے گا تو ڈنڈا پائے گا۔ پھر چاہے یہ خلاف ورزی اس نے ابوجی کے کہنے پر ہی کیوں نہ کی ہو۔ابو جی کے ابو جی بھی یہ طاقت نہیں رکھتے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر اپنا حکم بالادست کرسکیں۔ لہٰذا اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں کام کرنے سے اللہ کے رسول ﷺ نے تو منع کیا تھا مگر میں نے اس لیے کرلیا کہ ابوجی کا حکم آگیا تھا تو یہ باپ کو اللہ کے رسول ﷺ پر مقدم کرنے کی جسارت ہے۔ ایسا شخص اپنے انجام کے لئے تیار رہے۔
٭ ہر عاقل بالغ شخص اللہ کے دربار میں ”قابلِ مواخذہ“ ہے۔ اور یہ قابلِ مواخذہ وہ اس لیے ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسے اپنی زندگی کی مکمل ملکیت و مرضی منتقل کر رکھی ہے۔ اگر کسی کی مرضی اور اختیار پر والدین کی مرضی و اختیار حاوی آسکتا تو ہر وہ نکاح فاسد ہوتا جس میں والدین کی مرضی شامل نہ ہوتی۔ شادی کے اختیار میں بھی شرط صرف ”عاقل بالغ“ ہونے کی ہی ہے، والدین کا این او سی شرائط میں شامل نہیں۔
٭ اگر کوئی شخص اپنی اہلیہ کو صرف والدین کے حکم کی وجہ سے طلاق دیتا ہے تو یہ شخص قیامت کے دن اس ظلم کا حساب دے گا۔ جب نکاح جیسی مسنون چیز میں والدین کی مرضی نہیں چل سکتی تو طلاق میں ان کا حکم کیسے چل سکتا ہے جو ہے بھی بری چیز؟ بچیاں کوئی کھلونا نہیں کہ والدین کے کہنے پر ایک پھینکا اور دوسرا لے آئے۔ یہ جیتی جاگتی انسان ہیں۔ کسی کی زندگی تباہ کرنے کا کسی کو بھی حق نہیں، چاہے ایسا کرنے کا حکم دینے والا باپ ہی کیوں نہ ہو۔اس ضمن میں کچھ لوگ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے واقعات پیش کرکے والدین کے حکم پر ہونے والی طلاق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ سربراہِ حکومت تھے اور حکومت کے پاس نکاح ختم کرنے کا اختیار ہے۔
٭ والدین یہ بات اچھی طرح ذہن میں بٹھا لیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
آگاہ ہوجاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام ( سربراہ حکومت) لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ مرد اپنے گھروالوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھروالوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا اور کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔ آگاہ ہوجاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پرسش ہوگی۔ (صحیح بخاری۔ حدیث 7138)
اس روایت سے واضح ہے کہ والدین سے ان کی اولاد کی بابت باز پرس ہوگی۔ اس باز پرس کی ایک مثال دیکھیے کہ بخاری میں ہی حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، فرماتے ہیں، میرے والد نے مجھے ایک غلام گفٹ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے تمام بیٹوں کو ایک ایک غلام گفٹ کیا ہے؟ میرے والد نے ناں میں جواب دیا تو رسول اللہ ﷺ نے میرے والد کو حکم دیا کہ مجھ سے غلام واپس لے لیں۔ اسی طرح ایک اور روایت میں رسول اللہ ﷺ نے اولاد میں تفریق کے رویے کو ”ظلم“ قرار دیا ہے۔لہٰذا کسی ایک بچے کی طرف قلبی میلان زیادہ ہونا الگ چیز ہے مگر والدین یہ بالکل نہیں کرسکتے کہ ایک بچے کو نوکیا کا 3310 موبائل دیدیا اور دوسرے کو آئی فون۔ اب 3310 والی حرکت پر بیٹے کو تو اُف کی اجازت نہیں لیکن باپ بھی خوش فہمی میں نہ رہے۔ قیامت کے دن اولاد میں اس تفریق کا اسے حساب دینا ہوگا۔
اولاد کی ایک عمر تو وہ ہے جس میں وہ عاقل بالغ نہیں۔ اس عمر میں تو وہ ہر طرح کے معاملے میں والدین کے پابند ہیں اور والدین ان کے ذمہ دار ہیں۔ ایک ممکنہ صورت یہ بھی ہے کہ ایک بچہ بالغ تو ہوگیا ہے مگر ذہنی طور پر معذور ہے ۔ اس صورت میں بھی ماں باپ اس کے ذمہ دار ہیں، انہیں کسی بھی طرح کی غفلت کا حساب دینا ہوگا۔ جبکہ دماغی معذوری کے سبب بچے کی حکم عدولی قابلِ مواخذہ نہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ بچے عاقل بالغ ہوگئے، اور انہوں نے خاندانی روایات کے مطابق خود کو ماں باپ کا پابند رکھا تو اس صورت میں بھی والدین ان کے ذمہ دار ہیں۔ اگر یہ ذمہ داری مزید نہیں اٹھا سکتے تو اولاد سے کہہ دیجئے کہ پتر اپنا راستہ پکڑ۔ راستہ پکڑانے کی دو ممکنہ صورتیں ہوسکتی ہیں:
٭ پہلی صورت یہ کہ اولاد کو خود سے الگ کردیا جائے
٭ دوسری صورت یہ کہ اولاد کو گھر پر ہی رہنے دیا جائے مگر ان کی زندگی کے فیصلوں میں انہیں بااختیار کرکے یہ نصیحت کردی جائے کہ بیٹا کوئی بھی بڑا قدم اٹھا نے سے قبل ہم سے مشورہ کر لیا کرو۔ اس میں تمہارے لیے خیر ہوگی۔ فیصلہ خود کرو مگر ہم سے مشورے کے بعد۔
اولاد بھی ایک بات اچھی طرح سمجھ لے۔ اور وہ یہ کہ شہباز شریف سے ہماری بابت اس لیے باز پرس ہوگی کہ ہم نے پاکستان کا شناختی کارڈ لیتے ہوئے یہ اقرار کیا ہے کہ ”میں ریاست پاکستان اور اس کے آئین کا وفادار رہوں گا“ یوں گویا ہم نے خود کو پاکستان کے آئینی حکمران کی ماتحتی اور ذمہ داری میں دے دیا ہے۔ اور اسی لئے ہمیں پاکستان میں رہنے، پڑھنے، بزنس کرنے اور جائیدادیں بنانے کا حق حاصل ہے۔ سو اگر آپ نے عاقل بالغ ہونے کے بعد بھی مشرقی روایات کے مطابق خود کو ماں باپ کی کمانڈ میں دے رکھا ہے۔ جس کا پہلا ثبوت یہ ہے کہ آپ رہ ان کے گھر میں رہے ہیں تو پھر آپ ان کے تمام جائز آڈرز کے پابند ہیں۔ اور یہ ان کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ مناسب عمر میں آپ کی شادی کی فکر کریں۔ اگر وہ اس معاملے میں لاپروائی برت رہے ہیں تو سادہ طریقہ تو یہ ہے کہ ان کا گھر چھوڑ کر علیحدہ ہوجایئے اور شادی کر لیجئے۔
مگر یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم ٹو ان ون یعنی مولوی بھی ہیں اور صحافی بھی۔ سو اب تک ہم نے جو لکھا وہ ہمارے اندر بیٹھے مولوی کے خیالات تھے۔ آپ کی شادی میں والدین کی غفلت ختم کرنے کی مولوی کے پاس کوئی ترکیب نہیں۔ سو یہ کام ہم اپنے اندر بیٹھی دوسری ہستی صحافی کے سپرد کر رہے ہیں۔ صحافی رعایت اللہ فاروقی کا کہنا ہے کہ شادی والا مسئلہ حل کرنے کی دو صورتیں ہیں:
پہلا یہ کہ گھر پر ہوتے ہوئے کھسر پھسر والی ٹیلیفون کالوں کا تسلسل قائم کر لیجئے۔ اور وہ بھی یوں کہ جوں ہی ماں کمرے میں داخل ہو تو یہ کہتے ہوئے کال کاٹنے کی اداکاری کیجئے کہ ”بعد میں کال کرتا ہوں“۔
ماں ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے سو وہ چونکے گی ضرور مگر یہ سوچ کر چپ رہے گی کہ آپ شاید کسی دوست سے رازونیاز فرما رہے تھے۔ مگر جب یہ حرکت دوچار بار مزید ہوگی تو اماں جی کے کان کھڑے ہوجائیں گے۔ وہ انویسٹی گیشن شروع ہی ان الفاظ میں فرمائیں گی:
”یہ کون ہے جس سے تو ہر وقت کھسر پھسر کرتا ہے ؟ تو نے کوئی لڑکی تو نہیں پھنسا رکھی؟“
آپ نے فل ایکٹنگ کرتے ہوئے
”کوئی نہیں ہے ماں“۔
کہہ کر کمرے سے یوں نکلنا ہے جیسے اپنی چوری چھپانا چاہتے ہوں۔ بس اب آپ کی شکایت اباجی کے پاس جائے ہی جائے۔ یوں گھر میں تشویش کی ایک لہر دوڑ جائے گی جس کا نتیجہ آپ کی جلد شادی کی صورت ہی نکلے گا۔
لیکن اگر آپ کو اس سے بھی زیادہ جلدی ہو تو پھر زیادہ کارگر صورت یہ ہے کہ شام کی بجائے رات گیارہ بارہ بجے گھر لوٹنا شروع کردیجئے۔ اس پر والدین کو حیرت تو ہوگی مگر ”حسنِ ظن“ سے کام لیتے ہوئے سوچیں گے کہ آپ دیر تک دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ہر شخص کی طرح آپ کی زندگی میں بھی وہ خبیث تو ضرور ہوگا جسے جگری یار کہتے ہیں۔ جو آپ کے ساتھ ہمزاد کی طرح ہمہ وقت چپکا نظر آتا ہے۔ اس ہمزاد کو ایک روز اس مخبری کے ساتھ اپنے گھر بھیج دیجئے۔
” نکل ! اس کمینے نے ایک ایس ایچ او کی بیٹی پٹا لی ہے۔ فی الحال میرے علاوہ کسی کو پتہ نہیں مگر پریشانی کی بات یہ ہے کہ وہ ایس ایچ او جعلی پولیس مقابلوں کے لئے بہت مشہور ہے۔ اگر اسے پتہ چل گیا تو؟“
اگر آپ کے ہمزاد نے ایکٹنگ اچھی کر لی تو اب تو آپ کے والدین اس برق رفتاری سے آپ کی شادی کرائیں گے کہ ممکن ہے جلد بازی میں کوئی دھوبن لے آئیں۔
اب آجایئے اس نکتے کی جانب جسے کاپی پیسٹر مولویوں نے ٹچ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ۔ اور سیدھا سیدھا کہہ دیتے ہیں کہ والدین کی مکمل اطاعت فرض ہے۔ اطاعت کے معاملے میں عاقل بالغ بیٹے کے سامنے والدین کی جانب دو طرح کے احکامات آسکتے ہیں۔ ایک وہ جن کی تعمیل سے بیٹے کے جائز حقوق میں ان کا دخل ہوجاتا ہے۔ مثلاً شادی، بزنس، خریدوفروخت، تعمیر و تنصیب وغیرہ۔ تو ان احکامات میں اگر بیٹا تعمیل کرلے تو یہ اس کے نیک بخت ہونے کی دلیل ہے کہ اپنی خواہش پر والدین کی خواہش کو ترجیح دی۔ لیکن اگر وہ ان احکامات کی تعمیل نہیں کرتا تو کوئی بدتمیزی کئے بغیر حکم کے خلاف جا سکتا ہے۔ والدین اولاد کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے ملے جائز حقوق میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔ دوسرے وہ احکامات ہیں جن کا بیٹے کے جائز حقوق سے کوئی تعلق نہیں۔ والدین اپنے ہی کسی معاملے میں کوئی حکم دے رہے ہیں، کوئی تلقین کر رہے ہیں، کسی کی مدد کا کہہ رہے ہیں، کسی سے صلح کا کہہ رہے وغیرہ وغیرہ تو ان کے اس قسم کے احکامات کی تعمیل فرض ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں