اسلام آباد: کانسٹیٹیوشن ایونیو خالی کرانے کا معاملہ، طلال چوہدری نے حقائق بتادئیے

تازہ ترین

تازہ ترین

کانسٹیٹیوشن ایونیو
(فوٹو: اے پی پی)

اسلام آباد: وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کانسٹیٹیوشن ایونیو خالی کرانے کے معاملے پر حقائق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں غریب ہو یا امیر، سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت طلال چوہدری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھیل 2005 سے شروع ہوا اور گزشتہ 20سال میں ریاست اپنی رِٹ قائم نہیں کرسکی اور ریاست اب رِٹ قائم کرنے کے پیچھے پیچھے ہے۔ لیز لینے والی کمپنی تعلقات کی وجہ سے اس عمارت پر قابض رہی۔

نیوز کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ کمپنی نے لوگوں کو جھانسہ دیا اور بینکوں سے قرضے لیے۔ 2005 میں اس پلاٹ کی نیلامی کی گئی جسے بی این پی کمپنی نے خریدا اور 4.8ارب روپے کی لیز فائیو اسٹار ہوٹل کیلئے لی۔ حکومت تجاوزات کے خاتمے کیلئے بلا تفریق کام کر رہی ہے۔

وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ یہ جگہ جس مقصد کیلئے لی گئی تھی، اس کی بھی خلاف ورزی ہوئی۔عمارت کا نام ون کانسٹیٹیوشنل ایونیو ہے جسے لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے۔ تین بڑی کمپنیوں نے ایونیو کی جگہ ہوٹل بنانے کیلئے جگہ لیز پر لی۔ یہاں 250کے قریب رہائشی اپارٹمنٹس بنادئیے گئے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ معروف بزنس مین نے سپریم کورٹ کو اس معاملے پر ایک خط لکھا۔ جب نیب میں کیس گیا تو پیسوں کی بجائے جگہ دینے کی آفر کی گئی۔ 2012 میں ایک اشتہار دینے پر سی ڈی اے نے انہیں خط لکھا اور کہا کہ رہائشی عمارت بنانے کی اجازت نہیں۔اس گروپ نے سی ڈی اے نوٹس کی پرواہ نہیں کی۔ فائیو اسٹار ہوٹل تو نہیں بنے، رہائشی فلیٹس بنا دئیے گئے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقئ دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر موجود عمارت خالی کرانے کیلئے پولیس کی بھاری نفری کانسٹیٹیوشن ایونیو پہنچ گئی۔پولیس کارروائی کے دوران عمارت میں موجود اپارٹمنٹس کے دروازے توڑ دئیے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رات گئے پولیس کے ذریعے عمارت خالی کرانے کے احکامات دئیے گئے۔ ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ چند پولیس اہلکار عمارت کو آج شام تک خالی کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عمارت کی لیز منسوخی کی درخواستیں بھی خارج کردی تھیں۔

Related Posts