غزہ پیس بورڈ کا پس منظر

تازہ ترین

تازہ ترین

غزہ میں جاری ہولناک اور انسانیت سوز خونریزی کو دو برس سے زائد کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جس کے دوران 72 ہزار سے زیادہ بے گناہ فلسطینی  لقمۂ اجل بن چکے اور  متعدد بین الاقوامی فورمز، اسلامی تعاون تنظیم کے غیر معمولی اجلاس، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کی قراردادیں، اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹس، اس سنگین المیے کو روکنے میں عملی اثر انگیزی دکھانے سے قاصر رہے۔ اسی تعطل، بے بسی اور ادارہ جاتی ناکامی کے پس منظر میں “امن بورڈ” کا قیام معروضاتی حالات میں ایک متبادل، متحرک اور نسبتاً مؤثر سفارتی و عسکری فریم ورک کے طور پر ابھرا ہے۔

امن بورڈ کی تشکیل کو محض ایک رسمی اقدام کے بجائے ایک ہنگامی اور فیصلہ کن انتظام سمجھا جا رہا ہے، جسے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی توثیق حاصل ہے اور جو اقوام متحدہ کے چیپٹر 8 کے تحت علاقائی انتظامات کی قانونی گنجائش سے ہم آہنگ قرار دیا جا رہا ہے۔مجھ سمیت  ناقدین اسے بین الاقوامی قانونی معیارات سے جزوی انحراف اور نمائندگی کے عدم توازن کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، تاہم منطقی لحاظ سے  کئی حلقوں کے نزدیک یہ غزہ کے بحران کا  ایک ناگزیر اور وقتی بندوبست ہے جو عملی نفاذ، عسکری نگرانی اور سیاسی دباؤ کے امتزاج سے جنگ بندی کو پائیدار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس بورڈ کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اسے دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کی اعلیٰ ترین قیادت کی سرپرستی حاصل ہے؛ وہ قیادت جو عالمی سطح پر فیصلہ کن عسکری و سیاسی اثرورسوخ رکھتی ہے۔ ابتدائی اجلاس میں تقریباً 40 ممالک اور مبصرین کی شرکت نے اسے ایک وسیع البنیاد سفارتی پلیٹ فارم کی صورت دی۔ اجلاس میں 7 ارب ڈالر کی فوری امداد کے اعلانات ہوئے، جبکہ میزبان قیادت نے مزید 10 ارب ڈالر کی خطیر رقم دینے کا وعدہ کیا؛ بعد ازاں اطلاعات کے مطابق مجموعی وعدے 17 ارب ڈالر تک جا پہنچے۔ آئندہ مرحلے میں خلیجی ریاستوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے اضافی فنڈنگ اور ایک خصوصی تعمیرِ نو فنڈ کے قیام کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

امن بورڈ کے مجوزہ 20 نکاتی فریم ورک میں فوری اور مؤثر جنگ بندی، حماس کا مرحلہ وار غیر مسلح ہونا، بین الاقوامی نگرانی، اور غزہ کی ہمہ جہت تعمیرِ نو شامل ہیں۔ پانچ ممالک نے استحکام فورس میں فوجی دستے فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ آٹھ ملکی عسکری موجودگی کے ذریعے زمینی حقائق کو کنٹرول میں رکھنے کی حکمتِ عملی زیرِ غور ہے اور اگر یہ کثیرالجہتی دباؤ اور عسکری نگرانی پہلے نافذ ہو جاتی تو حالیہ مہینوں میں سیکڑوں جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکتا تھا۔

اس تناظر میں  پاکستان کی شمولیت خصوصی اہمیت اختیار کرجاتی ہے جبکہ ایک ذمہ دار اور باوقار مسلم ریاست کے طور پر پاکستان کا تاریخی مؤقف فلسطینی حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت پر مبنی رہا ہے، جس کی جڑیں 1948 سے پیوستہ ہیں اور آج یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اگر پاکستان استحکام فورس میں فوری اور فعال کردار ادا کرے تو عالمی سطح پر معرکہ حق کے بعد سے جس طرح پاکستان کی خارجہ پالیسی نے اڑان بھری ہے، پاکستان کی یہ حکمت عملی بھی ملک کے معاشی و سیاسی طور پر روشن اور شاندار مستقبل کی غماز ہوسکتی ہے۔ مجموعی طور پر امن بورڈ کو ایک جرات مندانہ، غیر روایتی اور نتائج پر مرکوز اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو ایک ایسا پلیٹ فارم ہوگا جو اقوام متحدہ کی سست رفتار سفارت کاری کے برعکس فوری نفاذ، مالی وسائل کی فراہمی اور عسکری نگرانی کے امتزاج سے زمینی حقائق بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا دارومدار شفاف نمائندگی، غیر جانبدار نفاذ، فلسطینی سیاسی شمولیت، اور پائیدار ریاستی حل کی جانب ٹھوس پیش رفت پر ہوگا اور اسی صورت میں غزہ کے بے گھر اور مظلوم فلسطینیوں کی حقیقی امداد ممکن ہوسکے گی جو رمضان المبارک میں بھی ملبے کے ڈھیر پر اپنے بابرکت روزے  سحر و افطار کرنے پر مجبور ہیں۔ضروری ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کا ساتھ دے کر غزہ کو خونریزی سے بچایا جائے اور فلسطینیوں کے ایک ایسے کل کی بنیاد رکھی جائے جو اسرائیل کے خونریز حملوں، زمینی و فضائی بمباری سے پاک ہو اور جہاں ان کی اور ان کے بچوں کی زندگیوں کی حفاظت کی ضمانت دی جاسکے۔ اگر دردِ دل رکھنے والے ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک نے اس معاملے میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیا تو پھر کل کو ان کی اپنی باری بھی آسکتی ہے۔

Related Posts