نوازشریف کی وطن واپسی

تازہ ترین

تازہ ترین

 پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی بعید از امکان قرار نہیں دیاجاسکتا، ان دنوں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد وسابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی وطن واپسی کے حوالے سے اطلاعات یا افواہیں زیر گردش ہیں اور اس میں اعلیٰ مسلم لیگی رہنماء بھی پیش پیش ہیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی واپسی کا خوف حکومت کو سونے نہیں دیتا، عمران نیازی کیلئے ایک ہی پیغام ہے کہ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے ، رانا تنویر نے کہا روک سکو تو روک لو ،جلد نواز شریف علاج مکمل کرواکر پاکستان تشریف لانے والے ہیں۔

اسلام آباد کی افواہ ساز فیکٹریوں نے تو نوازشریف کی وطن واپسی اور اقتدار تک جانے کی تمام راہیں بھی بتادی ہیں جن پر چل کر وہ ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کا تاج پہن سکتے ہیں۔ شنید یہ ہے کہ نواز شریف جنوری2022 میں لندن سے وطن واپس آرہے ہیں اوریہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق میاں محمد نواز شریف کو لینے کے لئے برطانیہ پہنچ چکے ہیں ۔

سینہ بہ سینہ آگے بڑھنے والی اطلاعات میں بیان کیا جارہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہو چکی ہے، وطن واپس آنے پر نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جائے گا اور مرحلہ وار تمام کیسز ختم کردیے جائیں گے جبکہ زیر سماعت کیسز اور سزاؤں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیلیں دائر کی جائیں گی ۔بعد ازاں عدالت کے ذریعے نواز شریف کو ریلیف دیا جائے گا اور انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت مل جائے گی ۔

دوسری جانب سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور نواز شریف مستقبل قریب میں جلد وطن واپس نہیں آ رہے۔ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی براہِ راست رابطہ نہیں، ن لیگ کی دوسری سطح کی قیادت بھی لا علم ہے تاہم بعض مبصرین نوازشریف کے روشن مستقبل کے حوالے سے مسلسل پیشگوئیاں اور قیاس آرائیاں کررہے ہیں۔

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کاکہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پاکستان آنا چاہیں تو انہیں 24 گھنٹوں میں ویزا جاری ہو گا اور ٹکٹ کے پیسے میں اپنی جیب سے دوں گا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نوازشریف کو ہم واپس لے کر آئیں گے، انہوں نے خود کبھی واپس نہیں آنا، معاملے پر برطانیہ کے ساتھ مل کر قانون سازی کررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف سنگین بیماری کا عذر پیش کرکے نومبر2019 میں 8 ہفتوں کیلئے بغرض  علاج لندن روانہ ہوئے تھے تاہم بیرون ملک پہنچنے کے بعد ان کے علاج کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی اور نجی امور کی انجام دہی کے دوران انہیں مکمل تندرست اور فعال دیکھا گیا جس سے ان کی دروغ گوئی کے تاثر کو تقویت ملی۔

مسلم لیگ (ن) ایک طرف ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف پس پردہ معاملات طے کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ نوازشریف سمیت سب کو سیاست میں حصہ لینے کا حق ہے لیکن ہونا یہ چاہیے کہ نوازشریف وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں اور اگر عدالتوں سے انہیں ریلیف ملتا ہے تو ضرور سیاست میں کردار ادا کریں تاہم ڈیل جیسے معاملات ان کی اپنی ساکھ کو مزید متاثر کرینگے اور ووٹ کو عزت دو اور ووٹ کی طاقت جیسے نعرے کھوکھلے ثابت ہوںگے جس سے ن لیگ کا حقیقی ووٹ بینک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

Related Posts