کورونا آخری وباء نہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان سمیت دنیا بھر میں  کورونا وائرس کی وباء کے دوران طبی شعبے نے آگے بڑھ کر اپنی زندگیاں داؤ پر لگاکر ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا ہے اور پاکستانی طبی عملے نے خدمت انسانیت کی نت نئی مثالیں قائم کی ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں موجود پاکستانی ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کورونا وائرس کے دوران اموات اور مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کی خدمات کو ہر سطح پر سراہا جارہا ہے تاہم اس صورتحال میں طبی شعبے میں موجود خامیاں اور کمزوریاں بھی کھل کر سامنے آگئی ہیں۔

صحت کے شعبہ میں بھی انٹرپینورشپ یعنی کاروبار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا بدل رہی ہے اور ابھی تو صرف کورونا کی وباء آئی ہے اس کے بعد دنیا کو جراثیم کی جنگ کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جراثیم کی جنگ میں بیماریاں بڑھتی جائینگی ایسے میں ڈیزاسٹرمینجمنٹ کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں 9 تبدیلیاں آچکی ہیں، دنیا میں آنیوالی جنگیں جراثیم کے پھیلاؤ سے ہی لڑی جائینگی، کورونا وائرس انسانی طور پر بھی بنایا ہوسکتا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں بھی اب صحت کے شعبہ پر توجہ دینا شروع کردی گئی ہے اور کراچی ایکسپو سینٹر کی طرح تمام اضلاع میں مراکز صحت قائم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب جراثیم کا سلسلہ جاری رہے گا۔

یہ جراثیم یا وائرس انسانوں ، مویشیوں اور فصلوں سمیت ہر چیز کو متاثر کرتے ہیں،طبی ماہرین کو ان چیزوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ ان وائرس یا جراثیم سے کیسے نمٹا جائے۔

امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس ، پاکستان سمیت دیگر ممالک کے سائنسدان موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنے تجربات آپس میں شیئر کررہے ہیں لیکن آئندہ کیلئے ایک مربوط لائحہ عمل تیار کرنا بہت ضروری ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں نت نئی بیماریاں سامنے آرہی ہیں، ڈینگی، ایبو ، کانگواور دیگر کئی بیماریاں ہیں جو بڑی تعداد میں انسانوں اور مویشیوں کی جانیں لے چکی ہیں اور عید الاضحی پر کانگو وائرس کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

پاکستان میں عطائی ڈاکٹرز کا مسئلہ بھی سنگین شکل اختیار کرچکا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر نے مرض بگاڑ دیا ہے لیکن یہاں یہ بات بھی واضح ہو کہ ڈاکٹر کبھی مرض کو خراب نہیں کرتا بلکہ ملک کی گلی گلی میں بیٹھے عطائی لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں  لیکن الزام ڈاکٹرز پر ڈال دیا جاتا ہے، پاکستان میں 70 فیصد علاج عطائی ڈاکٹرز کررہے ہیں جو مریض کے علاج کے بجائے انفیکشن کو مزید پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ عطائی لیبارٹریوں بھی عوام کی جان و مال سے کھیل رہی ہیں اور وائرس کو مزید پھیلا رہے ہیں۔

پاکستان میں مہنگے علاج کی وجہ ٹیکسز کی شرح ہے، پاکستان میں ایم آر آئی مشین پر لینڈ کروز جتنا ٹیکس ہے تو اتنے زیادہ ٹیکس اور دیگر اخراجات ملاکر ایم آر آئی کی لاگت بڑھ جاتی ہے جس میں طبی شعبے کا نہیں بلکہ حکومت کا قصور ہے، ایک مشین جس کی قیمت کروڑوں میں ہے اور اس پر بڑے پیمانے پر ٹیکسز لاگت کو کئی گناکردیتے ہیں اور ان مشینوں میں ہونیوالی خرابی نئی مشکلات کا سبب بنتی ہے لیکن اس سب کے باوجود عوام کو سہولت ضرور مہیا کی جاتی ہے۔

اس وقت خوش آئند بات ہے کہ حکومت پاکستان اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کررہی ہے اور کورونا ودیگر بیماریوں کے سدباب کیلئے کام کرنیوالوں کو مراعات و سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

ہمارے ملک میں  ڈاکٹرز کے ساتھ ناروا سلوک عام ہے اور انتہائی تشویشناک بات تو یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھی خدمات انجام دینے والے اسپتالوں اور ڈاکٹرز کو برا بھلا کہا جارہا ہے جس کہ افسوس کی ہے کیونکہ وسائل کی کمی اور وائرس کے خوف سے کراچی کے درجنوں  اسپتال بند اور چھوٹے کلینکس نے کام بند کردیا ہے ایسے میں مریضوں کیلئے اپنے دروازے کھولنے والے اسپتالوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جائز نہیں ہے ۔

Related Posts