پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں عدالت نے کمسن بہنوں کے گلے کاٹنے اور قتل کے اعتراف کے باوجود بھائی کو بری کردیا۔ مقامی عدالت نے یہ فیصلہ راضی نامے کی بنیاد پر سنایا۔
تفصیلات کے مطابق مظفر گڑھ کی تھرمل کالونی میں 3 کمسن بہنوں کی گلہ کٹی لاشیں ان کے گھر سے متصل رہائشی کوارٹر سے برآمد ہوئیں۔ ملزم نے اپنی بہنوں بہنوں 7 سالہ ابیہہ، 8 سالہ زہرہ اور 11 سالہ عریشہ کے قتل کا اعتراف بھی کرلیا۔
مظفر گڑھ پولیس کا کہنا ہے کہ والدین نے راضی نامہ کرکے ملزم کی بریت کی راہ ہموار کی۔ ملزم نے گرفتاری کے بعد قتل کا اعتراف کیا تھا۔ عدالت نے راضی نامے کی بنیاد پر تینوں بچیوں کے قتل کے سوا سال بعد ملزم کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔
کیس کا فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج چوہدری محمد آصف نے ملزم باسط کے حق میں سناتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس کا ماننا ہے کہ والدین نے اپنے بیٹے باسط سے راضی نامہ کیا، جس پر مقامی عدالت نے ملزم کی بریت کافیصلہ دیا۔
تاہم پولیس ملزم کو رہا کرنے کی بجائے اپیل کا ارادہ رکھتی ہے۔ ڈی پی او مظفر گڑھ سیّد حسنین حیدر نے کہا کہ تین بچیوں کے قتل کے ملزم کے حق میں تحریری فیصلہ جاری ہونے کے بعد فیصلے کا جائزہ لے کر اپیل کا فیصلہ کریں گے۔
وجوہات معلوم نہ ہوسکیں
ڈی پی او مظفر گڑھ کے بیان کے مطابق مظفر گڑھ میں 3 کمسن بہنوں کا قتل گزشتہ برس جولائی کے دوران ہوا تھا۔ 18 جولائی کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بچیوں کا قاتل ان کا اپنا بھائی باسط نکلا جس نے ان کے گلے کاٹ دئیے تھے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے کہا کہ اندھے قتل کے کیس کو صرف 12 گھنٹوں میں ٹریس کیا گیا۔ ملزم بہنوں کو بہانے سے قریبی کوارٹرز لے کر گیا تھا اور پھر چھری کی مدد سے قتل کردیا۔ ملزم نے بہنوں کی گمشدگی کی اطلاع بھی پولیس کو خود دی۔ پولیس کو ملزم کے ہاتھ پر زخم دیکھ کر قتل کا شبہ ہوا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








