بلیک لائیولی کو بڑا دھچکا، عدالت نے جنسی ہراسانی کا کیس مسترد کر دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو آن لائن

امریکی عدالت نے اداکارہ بلیک لائیولی کی جانب سے اداکار و ہدایتکار جسٹن بالڈونی کے خلاف دائر جنسی ہراسانی کے دعوے کو خارج کر دیا، جس کے بعد ان کی 2024 کی رومانی فلم “اِٹ اینڈز وِد اس” کی شوٹنگ سے متعلق مقدمہ محدود ہو کر رہ گیا۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج لیوس لیمن کا 152 صفحات پر مشتمل فیصلہ ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی قانونی کشمکش کے بعد سامنے آیا۔ اس فلم میں لائیولی اور بالڈونی نے ایک ساتھ اداکاری کی، جبکہ ہدایتکاری بھی بالڈونی نے کی۔

جنوری میں ہونے والی سماعت کے دوران لائیولی کی وکیل ایسرا ہڈسن نے موقف اختیار کیا تھا کہ بالڈونی نے بارہا حد سے تجاوز کیا، جس میں اسکرپٹ سے ہٹ کر غیر ضروری جنسی مواد شامل کرنا بھی شامل تھا۔

ہڈسن کے مطابق ایک رقص کے منظر میں بالڈونی نے لائیولی کی اجازت کے بغیر ان کے قریب ہونے کی کوشش کی، جبکہ ایک اور منظر میں جہاں لائیولی کا کردار بچے کو جنم دے رہا تھا، انہیں کم لباس پہننے اور برہنگی کی نقل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔

تاہم جج لیمن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ بظاہر بالڈونی کا رویہ لائیولی کے ذاتی طور پر نہیں بلکہ ان کے کردار کی طرف تھا۔

جج نے کہا کہ تخلیقی فنکاروں کو، بالخصوص اسکرپٹ کے دائرے میں رہتے ہوئے، تجربہ کرنے کی کچھ گنجائش ہونی چاہیے تاکہ وہ جنسی ہراسانی جیسے الزامات کے خوف کے بغیر کام کر سکیں۔

البتہ جج نے یہ بھی واضح کیا کہ لائیولی اب بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں کہ بالڈونی کی پروڈکشن کمپنی وی فیرر اسٹوڈیوز نے ان کی شکایت کے بعد ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی۔

جج کے مطابق جیوری اس بات کا جائزہ لے سکتی ہے کہ آیا مدعا علیہان نے لائیولی کے کیریئر کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر مناسب اقدامات کیے، جس میں مبینہ طور پر ایک منفی مہم بھی شامل تھی۔

انہوں نے کہا کہ کچھ اقدامات بظاہر حد سے تجاوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ مقدمہ 18 مئی کو ٹرائل کے لیے مقرر ہے۔

اس فیصلے کے بعد جیوری یہ فیصلہ نہیں کرے گی کہ آیا لائیولی کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا یا نہیں، تاہم ان کے ساتھ ناروا سلوک کے بعض الزامات انتقامی کارروائی کے دعوے کے تحت زیر بحث آ سکتے ہیں۔

لائیولی کی ایک وکیل سگریڈ مک کاؤلی نے بیان میں کہا کہ لائیولی گواہی دینے اور یہ ثابت کرنے کے لیے پرعزم ہیں کہ انہوں نے سیٹ پر حفاظت کے لیے آواز اٹھائی، جس کے باعث ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

دوسری جانب بالڈونی کے وکلا نے جنسی ہراسانی کے الزامات اور دیگر مدعا علیہان کے خلاف دعووں کے خارج ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا، جن میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جیمی ہیتھ بھی شامل ہیں۔ مدعا علیہان نے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

Related Posts