بھارتی ریاست راجستھان کی جیل کی قتل کے مقدمے میں قید خاتون اور مرد کو آپس میں محبت ہوگئی اور اس جوڑا شادی کے بندھن میں بندھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکام کو پیرول پر رہائی کی درخواست دی جسے راجستھان ہائی کورٹ نے ان کی درخواست کو منظور کرلیا اور اب یہ جوڑا آج شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔
کیس کی تفصیلات
پریاسیتھ نامی خاتون جسے ایک شخص کے قتل کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی 2018 سے جے پور کے سنگانیر اوپن جیل میں قید ہے۔ اسی جیل میں ہنومان پرساد نامی قیدی بھی ہے جسے پانچ افراد کے قتل کے جرم میں سزا دی گئی ہے اور وہ 2017 سے قید ہے۔
چھ ماہ قبل جیل میں ملاقات کے دوران دونوں کے درمیان تعلقات محبت میں بدل گئے۔ انہوں نے شادی کے ذریعے ایک ہونے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے راجستھان ہائی کورٹ سے پیرول کی درخواست کی۔ عدالت نے انہیں 15 دن کی ایمرجنسی پیرول منظور کر لی جس پر وہ آج باہر آ کر الوَر میں شادی کر رہے ہیں۔
مجرمانہ پس منظر
پریاسیتھ نے اپنے محبوب کے قرض کی ادائیگی کے لیے ایک منصوبہ بنایا تھا۔ اس نے ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ایک نوجوان کو اپنے گھر بلایا اور اغوا کر لیا بعد ازاں اپنے محبوب اور ایک دوست کے ساتھ مل کر متاثرہ نوجوان کے والد سے 10 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جس میں والد نے صرف 3 لاکھ روپے دیے۔ نوجوان کو رہا کرنے کے خوف سے اس کا قتل کر دیا گیا اور لاش کو سوٹ کیس میں رکھ کر پہاڑی علاقے میں پھینک دیا گیا۔
ہنومان پرساد کا بھی ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ناجائز تعلق تھا۔ اس رشتے میں رکاوٹ پیدا ہونے پر غصے میں آ کر اس نے خاتون کے شوہر، بچوں اور ایک رشتہ دار کو درانتی نما ہتھیار سے قتل کر دیا تھا۔
پولیس نے دونوں قیدیوں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا تھا تاہم قید کے دوران ان دونوں کے تعلقات محبت میں بدل گئے اور اب وہ شادی کے لیے پیرول پر باہر آ کر اپنی زندگی کا نیا آغاز کرنے والے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








