امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں غزہ کے معاملے پر بورڈ آف پیس کے قیام کے بعد حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے مسئلہ کشمیر پر بھی خصوصی بورڈ آف پیس کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آج 26 جنوری کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقعے پر مظلوم کشمیری پاک بھارت سرحد کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔ اس موقعے پر اپنے بیان میں حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا کہ بھارت کا نام نہاد یومِ جمہوریہ کشمیریوں کیلئے یومِ سیاہ ہے۔
بیان میں مشعال ملک نے کہا کہ جہاں انصاف ہونا چاہئے، وہاں زنجیریں ہوں تو یہ جمہوریت نہیں ہوسکتی۔ بھارت کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو مسلسل پامال کررہا ہے۔ آج دنیا میں امن کی بات ہورہی ہے۔ اگر دنیا میں واقعی قیام امن درکار ہے تو مسئلہ کشمیر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا کہ عالمی امن کی ہر کوشش میں کشمیر کو مرکزی ایجنڈا بنانا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے۔ بھارت میں اسیر یاسین ملک کو فوری طو رپر رہا کیا جائے کیونکہ ان کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔
یاسین ملک کو پھانسی کا خطرہ
حال ہی میں 8 جنوری کو بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنمایاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مشال ملک نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یاسین ملک کو 28 جنوری کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔ میں صرف اپنے شوہر کے لیے نہیں بلکہ لاکھوں کشمیری شہداء کے لیے نکلی ہوں۔
راولپنڈی راجہ بازار کے باجوڑ پلازہ میں تاجر برادری سے اپنے خطاب میں مشعال ملک کا کہنا تھا کہ کشمیر کی تحریک سیاست کی بجائے قربانی اور انسانیت کی تحریک ہے، ہم ووٹ یا اقتدار کیلئے نہیں نکلے۔ کشمیری اور فلسطینی آج حق و باطل کی سب سے بڑی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








