سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والوں کی لسٹیں تیار، کون کون سے شہروں میں کریک ڈاؤن شروع؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Woman arrested in Khanewal for filing fake rape case to blackmail man
ONLINE/ FILE PHOTO

لاہور: پنجاب پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے انتشار اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 39 افراد کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق یہ کارروائیاں لاہور، قصور، کاموکے، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ سمیت مختلف شہروں میں بیک وقت کی گئیں۔

لاہور سے 39 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر اضلاع میں بھی کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ 87 مزید افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا سراغ لگالیا گیا ہے جو فیس بک اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر جھوٹی یا اشتعال انگیز پوسٹس پھیلا رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد صوبے میں عوامی امن و امان کو متاثر کرنے والی ڈیجیٹل گمراہ کن مہمات کا سدِباب کرنا ہے۔

پولیس نے 200 سے زائد افراد کی فہرست بھی تیار کرلی ہے جن پر ایسے آن لائن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کی تصدیق کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ ریاستی ادارے گزشتہ رات سے ہی متحرک ہیں اور اُن عناصر کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں جو مظاہروں کے نام پر سوشل میڈیا کے ذریعے افواہیں اور اشتعال انگیز بیانات پھیلا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ٹوئٹر (ایکس)، فیس بک اور واٹس ایپ پر مشکوک اکاؤنٹس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ملک بھر میں ان کارروائیوں کا دائرہ مزید شہروں تک بڑھایا جا رہا ہے اور آئندہ چند روز میں 200 سے زائد مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔

ریاستی ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مشکوک اکاؤنٹس پر کڑی نظر رکھیں، جعلی پروفائلز اور جھوٹی خبروں کے ذرائع کی نشاندہی کریں، خاص طور پر ایسے مواد کی جو عوامی اشتعال یا خوف پھیلانے کا باعث بن رہا ہو۔

حکام نے تصدیق کی کہ مزید چھاپے آئندہ رات متوقع ہیں، جن میں مختلف شہروں سے بیک وقت گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

Related Posts