امریکی بزنس ٹائیکون ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے تیار کردہ چیٹ بوٹ گروک پر سنگین الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔ الزمات میں کہا جارہا ہے کہ اس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خواتین اور نابالغ بچوں کی جنسی نوعیت کی مصنوعی تصاویر تیار کیں اور انہیں وائرل کیا جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید اور قانونی کارروائی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کی تحقیق کے مطابق گروک نے صارفین کی درخواست پر عام تصاویر کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کرکے خواتین کو کم کپڑوں یا تقریباً برہنہ دکھایا۔ کئی کیسز میں نابالغ بچوں کی تصاویر بھی شامل تھیں۔ ایک مشہور واقعہ برازیل کی 31 سالہ موسیقار جولی یوکاری کے ساتھ پیش آیا جنہوں نے نیا سال منانے کے لیے اپنی اور اپنی بلی کی تصویر پوسٹ کی تھی۔ اگلے دن صارفین نے گروک سے تصویر کو بکنی میں تبدیل کرنے کی درخواست کی جس کے نتیجے میں تقریباً برپنہ تصاویر گردش کرنے لگیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختصر مدت میں گروک کی طرف سے درجنوں ایسی درخواستیں پوری کی گئیں جن میں زیادہ تر نوجوان خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ کچھ کیسز میں اسکول یونیفارم والی لڑکیوں کی تصاویر کو بھی کم کپڑوں میں تبدیل کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔
گروک نے خود ایک موقع پر تسلیم کیا کہ سیف گارڈز میں خامیوں کی وجہ سے نابالغوں کو کم کپڑوں میں دکھانے والی تصاویر تیار ہوئیں تاہم خامیوں کو فوری درست کیا جا رہا ہے۔ ایکس اے آئی نے نے میڈیا رپورٹس کو جھوٹ قرار دیا ہے۔
فرانس کے وزراء نے اس مواد کو جنسی اور صنفی امتیاز پر مبنی اور واضح طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایکس کو پراسیکیوٹرز اور ریگولیٹرز کے حوالے کر دیا۔ بھارت کی آئی ٹی وزارت نے بھی ایکس کو خط لکھ کر گروک کے غلط استعمال کو روکنے میں ناکامی پر جواب طلب کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ قابل پیشگوئی تھا اور روکا جا سکتا تھاکیونکہ پہلے بھی ایکس اے آئی کو خبردار کیا گیا تھا کہ گروک کا غلط استعمال غیر رضامندی سے بنائی گئی جعلی تصاویر کا سیلاب لا سکتا ہے۔
ایلون مسک نے اس تنازع پر ایکس پر ہنسی مذاق والے ایموجیز سے ردعمل دیا جبکہ متاثرہ افراد نے شرمندگی اور ناامیدی کا اظہار کیا ہے۔ ایکس اور ایکس اے آئی کی طرف سے ابھی تک تفصیلی بیان جاری نہیں ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








