کرکٹ میچ یا مودی کی سیاسی مہم؟ بھارتی ٹیم کا رویہ اپنی عوام کی نظروں میں مشکوک

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ پی سی بی)

ایشیا کپ 2025 کے اختتام پر بھارت کی کرکٹ ٹیم کے رویے پر ایک بھارتی صارف کے ٹوئٹ نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایشیا کپ کے آغاز پر بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں اور پی سی بی چیئرمین سے نہ صرف مصافحہ کیا بلکہ باہمی خوشگوار ماحول میں گفتگو، واک اور فوٹو شوٹس بھی کیے۔

موہت چوہان نامی بھارتی ٹوئٹر صارف نے ایک ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ ٹورنامنٹ کے آغاز پر سب نے ہاتھ ملایا، ایک ساتھ کھانا کھایا، ساتھ چلتے رہے، فوٹو شوٹ کیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے بھی ہاتھ ملایا لیکن بھارت میں شدید ردِعمل کے بعد بی جے پی اور بی سی سی آئی نے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اسکرپٹ بدل دیا۔

ٹوئٹر صارف نے مزید لکھا کہ ایشیا کپ کا اختتام اس روح سے نہیں ہوا جس کے لیے یہ ٹورنامنٹ جانا جاتا ہے۔ اُن کے مطابق یہ کھیل مہارت، ٹیم ورک اور اسپورٹس مین شپ کا جشن ہونا چاہیے تھا مگر اسے حب الوطنی کے نام پر ایک سیاسی مہم میں تبدیل کردیا گیا۔ اس عمل نے نہ صرف کھیل کی اصل روح کو کمزور کیا بلکہ ہماری اپنی ٹیم کی عزت بھی گھٹا دی۔

صارفین کا ردِعمل

اس پوسٹ کے جواب میں متعدد افراد نے اظہارِ خیال کیا جن میں ایک صارف نے وضاحت دیتے ہوئے لکھا کہ یہ ملاقات 7 ستمبر 2025 کو ایشیا کپ کی افتتاحی تقریب کے دوران ہوئی تھی۔ اگر سوریا کمار یادو چیئرمین پی سی بی سے ہاتھ ملانے سے انکار کرتے تو یہ ٹورنامنٹ کے پروٹوکول اور سرکاری آداب کی خلاف ورزی ہوتی۔

بھارت جیت کر بھی ٹرافی سے محروم، کپ ایشین کرکٹ کونسل واپس لے گئی

دوسرے صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ سیاستدانوں نے کھیل کو بھی نہیں چھوڑا۔ ہمیں کھیل کو کھیل کی طرح لینا چاہیے نہ کہ اسے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جائے۔

سیاسی اثرات یا اسپورٹس مین شپ؟

ایشیا کپ جیسے بین الاقوامی ایونٹس ہمیشہ سے کھیل کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے کا موقع سمجھے جاتے رہے ہیں مگر موجودہ صورتِ حال میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا کھیلوں کو سیاست سے بالکل الگ رکھا جا رہا ہے یا وہ بھی انتخابی ایجنڈے کا حصہ بن چکے ہیں؟

Related Posts