کرکٹ کی بحالی

تازہ ترین

تازہ ترین

یہ واقعی پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کا ایک تاریخی دن تھا۔ پاکستان سپر لیگ 7 (پی ایس ایل) کا پر جوش فائنل مشہور قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا گیا، شائقین کرکٹ اعلیٰ معیار کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے بھرپور طریقے سے محظوظ ہوئے۔

اسی دن، آسٹریلوی کرکٹ ٹیم ایک چوتھائی صدی کے بعد اسلام آباد میں اُتری، آسٹریلیا نے آخری بار 1998 میں دورہ کیا تھا اور بہت سے پاکستانیوں کو وہ سیریز ابھی بھی یاد ہے، لاہور میں چرچ میں خودکش دھماکے کے بعد پانچ سال قبل آسٹریلیا نے دورہ ملتوی کر دیا تھا۔ یہ دورہ بھی اس وقت تک غیر یقینی کی کیفیت میں ڈوبا ہوا تھا جب تک کہ ٹیم آخرکار نہ پہنچ جائے۔

اس بار، ٹیم اپنے چھ ہفتے طویل قیام کے دوران سخت سیکورٹی میں رہے گی۔ تقریباً 4000 پولیس اور فوجی اہلکار ٹیم ہوٹل اور اسٹیڈیم کی حفاظت کریں گے۔ اس اسکواڈ کو ریاستی سطح کی سیکورٹی قرار دیا گیا ہے، سڑکوں کو گھیرے میں لے لیا جائے گا اور سفر کے دوران قریبی دکانیں بند کر دی جائیں گی۔ پاکستان کے دورے کے دوران ٹیموں کے خدشات کے پیش نظر یہ انتظامات ضروری ہیں۔

پاکستانی کرکٹ کو اُس وقت دھچکا لگا جب نیوزی لینڈ نے سیکیورٹی خدشات کا بہانہ کرکے آخری وقت میں سیریز کھیلنے سے انکار کردیا تھا، نیوزی لینڈ کو سب سے زیادہ سیکورٹی دی جارہی تھی مگر کچھ بے بنیاد خدشات کے باعث سیریز کھیلنے سے انکار کردیا گیا تھا، اس کے بعد انگلینڈ نے اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔ مگراب دونوں ملکوں کی جانب سے آنے والے سالوں میں طویل دورے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

پی ایس ایل کی کامیاب میزبانی قوم، کرکٹ حکام اور کھلاڑیوں کے لیے خوشی کا لمحہ تھا۔ یہ پہلا پی ایس ایل تھا جو بغیر کسی رکاوٹ کے اور مکمل طور پر ہوم سرزمین پاکستان پر منعقد ہوا۔ ٹیموں کی جانب سے پہلے کی جانے والی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لئے سخت سیکورٹی ببل جاری کیا گیا تھا۔

2009 میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بعد کرکٹ کے دروازے بند ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ کرکٹ امن و امان کی صورتحال کا سب سے بڑا شکار رہا ہے۔ اگر آسٹریلیا کا دورہ کامیابی سے گزرتا ہے تو یہ ملک میں کرکٹ کی بحالی کے لیے ایک اہم لمحہ ہوگا۔

Related Posts